Bharat Express DD Free Dish

India-Iran Relations

وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آنے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی ذرائع کو ’’وسیع اور متنوع‘‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

وزیراعظم سے ملاقات سے قبل غدیر نظامی پور نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف علاقائی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 4 جولائی سے آغاز ہونے والی کئی روزہ تقریبات 9 جولائی کو مشہد میں تدفین پر اختتام پذیر ہوں گی۔ آخری رسومات اور تدفین کی تقریب میں متعدد عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا، ”ہاں، ہم نے اجازت دی ہے، لیکن میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ کتنے جہازوں کو اجازت دی گئی ہے۔ بطور سفیر میں اس معاملے پر آئندہ بھی نظر رکھوں گا کیونکہ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔ ایک سفیر کی حیثیت سے میں نے اپنی پوری کوشش کی اور کچھ تاخیر کے بعد یہ ممکن ہو سکا“۔

مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہونے سے ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسافروں کو سفر سے قبل فلائٹ اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام میں پرامن احتجاج اور عوامی مطالبات کا اظہار ایک قانونی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی قیادت، بشمول صدر مملکت، عوام کی بات قانون کے دائرے میں سننے پر زور دیتی رہی ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی مسائل پر مل کر کام کر رہے ہیں۔