Bharat Express DD Free Dish

diplomatic relations

سلوواکیہ کی آزادی کے بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

صدر ایمانوئل میکروں نے بھارت کی تکنیکی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اختراع اور انجینئرنگ کے میدان میں بھارت کا عالمی مقام مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں اب بھارت کے ساتھ مستقبل کی شراکت داریوں پر مرکوز ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق وزیراعظم مودی اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کریں گے اور یروشلم میں ایک تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ اس مجوزہ دورے کو ہند-اسرائیل تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے دو طرفہ تعاون کو نئی سمت ملنے کی توقع ہے۔

وزیراعظم مودی کا یہ دورہ بھارت–ملیشیا تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔ملیشیا میں وزیراعظم مودی کا شاندار اور شاہانہ استقبال، دو روزہ دورے کے دوران اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور بھارتی قونصل خانہ کھولنے کا اعلان۔

وزیراعظم نریندر مودی دو روزہ دورے پر تھمپو پہنچے ہیں۔ بھارت اور بھوٹان کے تعلقات باہمی احترام اور رواداری پر قائم ہیں اور یہ شراکت داری بھارت کی ’’پڑوسی پہلے‘‘ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے۔

روسی صدر پوتن نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’’بااعتماد ساتھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ  بھارت-روس تعلقات تاریخی اور خصوصی نوعیت کے ہیں۔

حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں نے تعلقات میں بہتری لانے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔ اگست میں وانگ ای نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال کے ساتھ سرحدی مسائل پر 24ویں خصوصی نمائندہ مذاکرات کی بھی صدارت کی تھی اور وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔

وزیراعظم کا اسرائیل اور فلسطین دونوں کے رہنماؤں کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ درحقیقت، جب وزیر اعظم مودی نے فروری 2018 میں فلسطین کا دورہ کیا، تو وہ پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے جنہوں نے فلسطین کا سرکاری دورہ کیا۔ مزید برآں، انہیں فلسطین کے صدر محمود عباس کی جانب سے ’گرینڈ کالر آف دی اسٹیٹ آف فلسطین‘ سے نوازا گیا، جو بھارت اور فلسطین کے تعلقات کو فروغ دینے میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

اجلاس کے دوران وزیراعظم مودی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہ اجلاس اس وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کی 50 فیصد ٹیرف نافذ ہو چکی ہیں، جن میں سے 25 فیصد محصول بھارت پر روسی خام تیل خریدنے پر لگایا گیا ہے۔