Bharat Express DD Free Dish

Digvijay Singh

انتخابات مکمل ہونے کے بعد بے ضابطگیوں کے خوف سے کانگریس کے سینئر لیڈر اور راج گڑھ کے امیدوار ڈگ وجے سنگھ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔

مدھیہ پردیش میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ دگ وجئے سنگھ نے ایک بار پھر ای وی ایم کو لے کر سوال اٹھائے ہیں

راج گڑھ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دگ وجئے سنگھ نے کہا، ''میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بھی الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہوں، لیکن پارٹی نے مجھے یہاں (راج گڑھ) سے الیکشن لڑنے کو کہا ہے، اس لیے میں یہاں سے لڑوں گا۔''

اس دوران جگدیپ دھنکھڑ نے راہل گاندھی کے ساتھ ساتھ کانگریس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ دھنکھڑنے کانگریس لیڈر ڈگ وجے سنگھ سے کہا، 'آپ ایک تجربہ کار لیڈر ہیں۔

بی جے پی کی تین مرکزی ریاستوں  راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات جیتنے کے چند دن بعد دگ وجئے  سنگھ نے ای وی ایم کے قابل اعتماد ہونے پر بحث چھیڑ دی ہے۔انہوں نے ایکس پر لکھا کہ چپ والی کسی بھی مشین کو ہیک کیا جا سکتا ہے۔ میں نے 2003 سے ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کی مخالفت کی ہے۔

دگ وجے سنگھ نے اس سوال کو ایک بنیادی سوال قرار دیا ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو غور کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور سپریم کورٹ سے بھی پوچھا کہ کیا وہ ہندوستان کی جمہوریت کو بچا سکتے ہیں؟

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب کارکنان ٹکٹوں کی تقسیم میں من مانی کی شکایت کرنے کمل ناتھ کے پاس پہنچے تو کمل ناتھ نے انہیں دگ وجے سنگھ اور جے وردھن سنگھ کے کپڑے پھاڑنے بھیج دیا۔

دگ وجے سنگھ اکثر جیوترادتیہ سندھیا پر زبانی حملہ کرتے رہتے ہیں۔ مہینے کے آغاز میں بالواسطہ طور پر نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’’بادشاہوں اور مہاراجوں نے خود کو بیچ دیا لیکن قبائلی ایم ایل ایز نے اپنے کردار کی ایمانداری دکھائی۔‘‘

چیف منسٹر شیوراج نے کہا، “ایس پی کے اکھلیش یادو کہہ رہے تھے کہ کانگریس والوں نے دھوکہ دیا، انہیں ساری رات بٹھایا، بات کی اور ایک بھی سیٹ نہیں دی۔ اب سماج وادی پارٹی الگ لڑے گی۔ عام آدمی پارٹی والے بھی یہ کہہ کر بھاگ گئے کہ ہم اتحاد میں نہیں آرہے ہیں۔ وہ بھی الگ لڑیں گے۔

وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ اب کانگریس میں آپس میں لڑائی ہے۔ مظاہرے ہو رہے ہیں، پتلے جلائے جا رہے ہیں۔ دکھ کانگریس کے اندر ہی ہے۔ انڈی اتحاد بننے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔ کوئی مستقبل نہیں، یہ گھمنڈی لوگ بکھر گئے ہیں۔