Bharat Express DD Free Dish

Delhi Air Pollution

اس صورتحال کے پیش نظر فضائی معیار کے کمیشن (CAQM) نے گریڈیڈ ریسپانس ایکشن پلان (GRAP) کے دوسرے مرحلے (Stage-2) کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB) کے مطابق، اتوار شام چار بجے دہلی کا ایئرکوالٹی انڈیکس (AQI) 296 ریکارڈ کیا گیا، جو کہ ’خراب‘ (Poor) زمرے میں آتا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے دہلی کا فضائی معیار 201 سے 300 کے درمیان برقرار ہے۔

آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کے پیچھے گاڑیوں کا دھواں، تعمیراتی سرگرمیاں، پرالی جلانا اور موسمی تبدیلیاں جیسے عوامل کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ دہلی حکومت اور آلودگی کنٹرول بورڈ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور جلد ہی اس سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

دہلی-این سی آر میں دیوالی سے پہلے فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بہت سے علاقوں میں اے کیو آئی 300 سے تجاوز کر گیا ہے اور گریپ اسٹیج-1 نافذ کر دیا گیا ہے۔ جانیں کون سے علاقوں میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں۔

دہلی-این سی آر کی ہوا ”خراب“ زمرے میں پہنچ چکی ہے اور آلودگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس درمیان، بہار اور جھارکھنڈ میں موسم صاف اور خوشگوار بنا ہوا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہے  خراب ہوا کے معیار پر سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا، AAP نے بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف ہوا کا اس کا انتخابی وعدہ صرف تین ماہ میں ختم ہوگیا۔

فضائی آلودگی کی شدید سطح سے نمٹنے کے لیے سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ تمام گریپ 4 اقدامات، جو اسکولوں سے متعلق نہیں ہیں، اگلی سماعت تک نافذ رہیں گے۔

دہلی کے مختلف علاقوں میں مختلف AQI ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آنند وہار میں 457 AQI، اشوک وہار میں 455، چاندنی چوک میں 439، آر کے پورم میں 421 ریکارڈ کیا گیا ہے جو شدید زمرے کی نشاندہی کرتا ہے۔

دہلی ہوائی اڈے کے حکام نے کہا کہ کم ویزیبلٹی کے چیلنجوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دہلی ہوائی اڈے کے چار میں سے تین رن وے CAT III انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم (ILS) سے لیس ہیں، جو کم ویزیبلٹی کے ساتھ گھنی دھند میں بھی کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔

فضائی آلودگی آنکھوں کی صحت کو کافی حد تک متاثر کر سکتی ہے جس سے آنکھوں کے مسائل اور جلن ہوتی ہے۔ آلودہ ہوا میں ایسے ذرات، دھول اور آلودگی ہوتی ہے جو آنکھوں میں جلن کا سبب بن سکتی ہے۔

بھارت میں فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں، کوئی بھی آلودگی سے نمٹنے میں سنجیدہ نظر نہیں۔ ظاہر ہے کہ آلودگی سے لڑنے کے لیے طویل المدتی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے، جب کہ ہوا کو زہریلی ہونے سے بچانے کے لیے لوگوں کو اپنی سطح پر تمام کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔