نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قومی دارالحکومت دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے معاملے پر مرکزی حکومت سے ایک تفصیلی منصوبہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ پیر کی سماعت میں عدالت نے ہدایت دی کہ مرکز آلودگی سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمتِ عملی تیار کرے۔
تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگانے سے انکار
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آر گَوئی، جسٹس ونود چندرن اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ پیر کو بنچ نے تعمیراتی سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی پابندی سے مزدوروں کی روزی روٹی متاثر ہوگی۔
ماحولیات اور ترقی کے درمیان توازن ضروری
عدالت نے کہا کہ ماحولیات اور ترقی کے درمیان توازن ضروری ہے۔ صرف ایک پہلو دیکھ کر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ دہلی میں تیزی سے بڑھتی آلودگی کے پیشِ نظر ’سخت ہدایات‘ جاری کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ مسئلہ عارضی اقدامات سے حل نہیں ہوگا، اس کے لیے مرکز کو دیرپا حل تلاش کرنا ہوں گے۔
سماعت کے دوران اٹھا پرالی جلانے کا مسئلہ
سماعت کے دوران پرالی جلانے کا مسئلہ بھی اٹھا۔ اس پر امیکس کیوری اور سینئر وکیل اپراجتا سنگھ نے عدالت میں اپنا مؤقف رکھا۔ عدالت نے پوچھا: ’’جب امیکس کہتے ہیں کہ آلودگی سب سے زیادہ ہے لیکن پرالی جلانے کے واقعات کم ہوئے ہیں، تو کیا اس کے دوسرے اسباب ہو سکتے ہیں؟ اگر پرالی جلانا کم ہوا ہے تو آلودگی کیوں بڑھی؟‘‘
19 نومبر کو ہوگی معاملے کی اگلی سماعت
سپریم کورٹ نے مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ پنجاب، اتر پردیش، راجستھان اور ہریانہ کی حکومتوں سے بھی مؤثر کارروائی کرنے کی اپیل کی۔ معاملے کی اگلی سماعت 19 نومبر کو ہوگی۔
دہلی-این سی آر میں فضائی معیار مسلسل خراب
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے دہلی-این سی آر میں فضائی معیار مسلسل خراب ہے۔ پیر کے روز دہلی کی اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 360 ریکارڈ کیا گیا۔ چھ مقامات پر یہ 400 سے زیادہ پایا گیا، جو ’سنگین‘ کیٹگیری میں آتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



