Bharat Express DD Free Dish

Politics intensifies over Delhi pollution: دہلی میں آلودگی پر سیاست تیز، سوربھ بھاردواج نے ڈیٹا چوری اور دھوکہ دہی کا لگایا الزام

سوربھ بھاردواج نے پنجاب کے کسانوں کے حوالے سے دیے گئے ایک مرکزی وزیر کے بیان کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران کو پنجاب کے سکھ کسانوں سے معافی مانگنی چاہیے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ہندوؤں کے تہواروں کے دوران پرالی جلاتے ہیں۔ یہ بیان انتہائی شرمناک ہے۔

عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج۔

نئی دہلی: دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے درمیان عام آدمی پارٹی (AAP) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے درمیان سیاسی گھمسان تیز ہو گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نہ صرف آلودگی کے اعداد و شمار میں جعلسازی کی ہے بلکہ ڈیٹا چوری بھی کی ہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جیسے جیسے دہلی میں آلودگی بڑھی، ویسے ویسے حکومت کے مانیٹرنگ اسٹیشن خود بخود بند ہونے لگے، جو خود میں انتہائی مشکوک بات ہے۔

دہلی کی عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ: سوربھ 

انہوں نے کہا، “ایک نہیں بلکہ چار مختلف اداروں کے درجنوں مانیٹرنگ اسٹیشن راتوں رات بند کر دیے گئے اور صبح جب ہوا چلنے لگی تو دوبارہ کھول دیے گئے۔ یہ دہلی کی عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہلی کی ہوا اتنی خراب ہے جتنی دکھائی نہیں جا رہی۔”

کچھ ایپس پر اے کیو آئی 1700 تک پہنچا

انہوں نے بتایا کہ نہرو نگر کے مانیٹرنگ اسٹیشن پر رات میں اے کیو آئی (AQI) کی ریڈنگ 1763 درج ہوئی، جس کے فوراً بعد اسٹیشن بند کر دیا گیا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا، ’’کچھ ایپس پر اے کیو آئی 350 دکھایا جا رہا تھا جبکہ کچھ پر 1700 تک۔ یہ واضح ہے کہ بڑے اعداد و شمار کو جان بوجھ کر ہٹا دیا گیا تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔”

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب اے کیو آئی 350 سے اوپر جاتا ہے تو گریپ-3 (GRAP-3) نافذ ہونا چاہیے، مگر ابھی تک کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے اسے نافذ کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکومت کو درست اے کیو آئی ڈیٹا عوام کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن اس کے باوجود حکومت ڈیٹا چھپانے اور اس میں ہیرا پھیری کرنے میں مصروف ہے۔

مرکزی وزیر کے بیان کی سخت مذمت

سوربھ بھاردواج نے پنجاب کے کسانوں کے حوالے سے دیے گئے ایک مرکزی وزیر کے بیان کی بھی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا، ’’بی جے پی کے لیڈران کو پنجاب کے سکھ کسانوں سے معافی مانگنی چاہیے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ہندوؤں کے تہواروں کے دوران پرالی جلاتے ہیں۔ یہ بیان انتہائی شرمناک ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ 2021 میں پرالی جلانے کے 4,327 معاملے درج ہوئے تھے، جو 2025 میں گھٹ کر صرف 400 کے قریب رہ گئے ہیں۔ یہ کسانوں کی محنت اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read