Bharat Express DD Free Dish

Cross Border Terrorism

وزیراعظم  مودی نے کہا کہ اگرچہ دہشت گردی کا خطرہ مسلسل اپنی شکل بدل رہا ہے، لیکن دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مخالفت کرنے کا بھارت کا عزم اٹل ہے۔ انہوں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔وزیراعظم  مودی نے 2014 میں 9/11 میموریل اینڈ میوزیم کے اپنے دورے کی کچھ جھلکیاں بھی شیئر کیں۔

وزارت داخلہ یا نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے جاری رپورٹ ہی مستند ذریعہ ہے۔ عوام، میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو پھیلانے سے گریز کریں۔

ایس سی او اجلاس میں بھارت، چین، پاکستان، روس اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے دفاع شریک تھے، لیکن دہشت گردی کو واضح طور پر اجاگر کرنے پر بھارت کے اصرار کی وجہ سے اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث مشترکہ بیان جاری نہ کیا جا سکا۔

راجناتھ سنگھ نے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کا طریقہ ہندوستان میں لشکر طیبہ کے پچھلے دہشت گردانہ حملوں جیسا تھا۔ ہندوستان دہشت گردی کو ہر گز برداشت نہیں کرے گا۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تیسرے دورِ حکومت کا پہلا سال مکمل ہو چکا ہے اور اس مدتِ حکومت کا بنیادی پیغام ایک ہے کہ ’’قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘۔

سنگھ نے مزید کہا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد سے حالات میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے لیے معاہدے کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے ہندوستان نے کہا ہے کہ سندھ آبی معاہدہ اس وقت تک التوا میں رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔

ہندوستانی وفد جو دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی پالیسی کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنے کے مقصد سے امریکہ پہنچا تھا، نے 9/11 کے حملوں میں اپنی جانیں گنوانے والوں کی  یادگار پر جاکر خراج عقیدت پیش کی۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدام تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی بنانے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے درمیان سامنے آیا ہے ، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ  پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے چند روز قبل اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خود اعتراف کیا تھا کہ ان کا ملک گزشتہ تین دہائیوں سے یورپ اور امریکہ کے لیے دہشت گردوں کی پرورش کر رہا ہے۔