Bharat Express DD Free Dish

Crime News

اترپردیش کے باغپت ضلع میں حیران کردینے والا حادثہ دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں ایک خاتون نے سرعام شخص پر بیلٹ سے حملہ کردیا۔ حادثہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس جانچ میں مصروف ہوگئی ہے۔

جودھپور کے چاندی کے تاجر دنیش ٹانک کی لاش ناتھدوارہ میں ملی ہے۔ موت سے پہلے انہوں نے ایک ویڈیو جاری کر کے ساگر مراٹھا، راکیش سونی اور پولیس چوکی میں ہوئی مبینہ ہراسانی اور اذیت رسانی کا الزام لگایا ہے۔

گوالیار ضلع کے ڈبرا کے دیہات تھانہ علاقے میں ایک نوجوان لڑکی کو ٹم ٹم پر سوار بدماش بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گئے اور اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی واردات کو انجام دیا۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے تین نامزد ملزمان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔

اندور میں اب منشیات کی اسمگلنگ میں خواتین بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ حال ہی میں پولیس نے ایک خاتون کو 8 کلو 313 گرام گانجے کے ساتھ گرفتار کیا، جو پہلے ہی ضمانت پر رہا تھی۔

فائر بریگیڈ کے سربراہ پاویل ٹوور نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے افراد طیارے میں سوار تھے یا سڑک پر موجود گاڑیوں میں شامل تھے۔

شہر کے مختلف علاقوں سے موصول اطلاعات کے مطابق زلزلے کے دوران گھروں میں فرنیچر اور چھت کے پنکھے ہلتے ہوئے دیکھے گئے۔ کئی دفتری عمارتوں میں ملازمین نے صورتحال کو بھانپتے ہی عمارتیں خالی کر دیں اور احتیاطاً کھلے میدانوں میں منتقل ہوگئے۔

خاندان کے مطابق بچی گزشتہ دو دن سے انتہائی نازک حالت میں آئی سی یو میں داخل تھی اور مسلسل بے ہوش پڑی رہی، مگر بار بار شکایت کرنے کے باوجود ڈاکٹروں نے مناسب توجہ نہیں دی۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ علاج پر تقریباً 12 سے 14 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود بچی کی جان نہ بچائی جا سکی۔

سفارت خانے نے بھارتی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں، اپنے اردگرد کے حالات پر نظر رکھیں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

ایل مینچو کی موت کی خبر پھیلتے ہی جالیسکو اور قریبی علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا۔ اس کے حامیوں نے متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ سیاحتی شہر پیورٹو ویارتا کے آسمان پر دھوئیں کے بادل دیکھے گئے جبکہ ایئرپورٹ پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔

خفیہ الرٹ میں لال قلعہ سے متصل تاریخی علاقے چاندنی چوک کے اہم مذہبی مقامات کو بھی خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ یہاں واقع دگمبر جین مندر، گوری شنکر مندر اور سیس گنج گوردوارہ روزانہ ہزاروں عقیدت مندوں کی آمد کا مرکز ہیں،