Bharat Express DD Free Dish

Cricket News

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کھلاڑی کو آج “کرکٹ کا بھگوان” کہا جاتا ہے، وہ اپنے کیریئر کے آغاز میں بلے باز نہیں بلکہ تیز گیند باز بننا چاہتے تھے۔ اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے وہ آسٹریلیا گئے،

آئی پی ایل 2026 کے ایک ہائی وولٹیج مقابلے میں ممبئی انڈینس نے گجرات ٹائٹنز کو شکست دے دی ہے۔ نوجوان بلے باز تلک ورما کی پہلی آئی پی ایل سنچری نے ممبئی انڈینس کی اس جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ممبئی انڈینس کی یہ جیت نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ کرے گی بلکہ ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے امکانات کو بھی مضبوط بنائے گی۔

اتوار کو راجستھان رائلز کے خلاف ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے میچ میں کے کے آر نے 4 وکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ اس جیت کے ساتھ کے کے آر نے 6 میچوں کے بعد اپنی پہلی فتح درج کی اور پوائنٹس ٹیبل میں نویں مقام پر پہنچ گئی۔

پنجاب کنگز نے 196 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آغاز ہی سے جارحانہ انداز اپنایا۔ اوپنر پربھسمرن سنگھ نے شاندار فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 80 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جبکہ کپتان شریاس ایئر نے بھی 35 گیندوں پر 66 رنز بنا کر ٹیم کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایئر کی اننگز میں 4 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے۔

اس وقت اورنج کیپ وراٹ کوہلی کے پاس ہے جو 5 میچوں میں مجموعی طور پر 228 رنز بنا کر ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز ہیں۔ گیندبازی میں گجرات ٹائٹنز کے پرسدھ کرشنا نے اپنی برتری برقرار رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نے 4 میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کر کے پرپل کیپ اپنے نام کیا ہوا ہے۔

انڈین پریمیئر لیگ 2026 کے ایک اہم مقابلے میں رائل چیلنجرز بنگلور نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھنؤ سپر جائنٹس کو 5 وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ساتھ آر سی بی نے سیزن میں اپنی چوتھی جیت درج کرتے ہوئے پوائنٹس ٹیبل میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

مارچ کے مہینے کے بہترین کھلاڑی کے لیے سنجو سیمسن کے ساتھ بھارتی تیز گیند باز جسپریت بمراہ اور جنوبی افریقہ کے بلے باز کونر ایسٹرہائزن کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  سنجو سیمسن نے دونوں کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز اپنے نام کیا۔

ویبھو سوریاونشی کی کامیابی کسی ایک دن کی مرہون منت نہیں بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت اور لگن شامل ہے۔ آئی پی ایل میں ڈیبیو کے بعد انہوں نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ رواں سیزن میں انہوں نے صرف چار میچوں میں 200 سے زائد رنز اسکور کیے ہیں، جن میں 26 گیندوں پر 78 رنز اور 17 گیندوں پر 52 رنز کی دھواں دھار اننگز شامل ہیں۔

میچ میں ٹاس ہار کر پہلے بیٹنگ کرنے والی لکھنؤ سپر جائنٹس نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 164 رنز بنائے۔ ٹیم کی شروعات اچھی نہیں رہی اور 14 کے مجموعی اسکور پر مچل مارش 11 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد ایڈن مارکرم نے کپتان رشبھ پنت کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لیے 31 رنز کی شراکت قائم کی۔

راجستھان کے ہاتھوں شکست کے بعد گجرات ٹائٹنز کا نیٹ رن ریٹ کافی نیچے گر گیا ہے اور ٹیم دونوں میچ ہار کر ساتویں نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب ممبئی انڈینز بڑی شکست کے بعد چھٹے مقام پر ہے۔