Bharat Express DD Free Dish

CJP Protest

دہلی میں ایک خاتون کوتھپڑمارنے والے ایڈیشنل ڈی سی پی سندیپ لامبا کوکناٹ پلیس سے ہٹا کرشمال مشرقی دہلی واپس بھیج دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ 20 جولائی کوپارلیمنٹ مارچ کے دوران پیش آیا اورویڈیو وائرل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے کارروائی کا مطالبہ کیا۔ سندیپ لامبا کو دھمکیاں ملنے کے بعد احتجاجی مقام سے ہٹا دیا گیا تھا۔

سی جے پی تحریک اور NEET پرچہ لیک تنازع پر وراٹ کوہلی، روہت شرما سمیت بھارتی کرکٹرز کی خاموشی موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ جانیے، اس معاملے میں بی سی سی آئی کے قواعد کیا کہتے ہیں۔

 حکومت باربار کہہ رہی ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔ اسی درمیان ذرائع کے حوالے سے خبر ملی ہے کہ سی جے پی کے لیڈران نے حکومت سے بات چیت کرنے سے منع کردیا ہے۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے لکھا، ’’وزیراعظم مودی کی قیادت میں طلبا کے مفاد کا تحفظ اور نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے۔‘‘

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔

 کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا جنتر منتر پربدھ (22 جولائی) کو 25ویں دن بھی احتجاج جاری ہے۔ اس دوران مظاہرین پرآنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال صورتحال قابو میں ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے یہ بھی احتجاج میں کچھ شرپسند عناصرشامل ہوگئے تھے۔ سی جے پی کارکنان اورطلبا مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے دھرنے کو کمزور کرنے کے لئے وزیراعظم مودی نے راہل گاندھی کو اپنی رہائش گاہ پر دھرنے پر بٹھا دیا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ ہم طلبا کے احتجاج کو پوری حمایت دے رہے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں طلبہ کے احتجاج کی گونج سات سمندر پار بھی سنائی دی۔ دنیا کے کئی بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اس احتجاج کو نمایاں کوریج دیتے ہوئے طلبہ کے اس مظاہرے کو جرات مندانہ قرار دیا۔

 وکیل نے عرضی میں الزام لگایا ہے کہ پارلیمنٹ تک نکالے گئے طلبا کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران دہلی پولیس نے مبینہ طورپر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا۔ آپ کو بتا دیں کہ جنتر منترپر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں نیٹ امتحان کے مبینہ پیپرلیک کے خلاف ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے احتجاج جاری ہے۔ وہیں، سماجی کارکن سونم وانگچک گزشتہ 25 دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔