Bharat Express DD Free Dish

CJP Protest

کنگنا رناوت نے راہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کے مطالبے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی دنیا کے مقبول ترین لیڈروں  میں شمار ہوتے ہیں، ایسے میں آخر وہ استعفیٰ کیوں دیں۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ تقریباً 1.4 لاکھ کروڑ روپے ہے، لیکن حکومت بڑے صنعت کاروں کے لاکھوں کروڑ روپے کے قرض معاف کر دیتی ہے، جبکہ طلبہ کو انصاف نہیں ملتا۔ ان کے مطابق بار بار امتحانات کے پرچے لیک ہو رہے ہیں، اس لیے نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج غیر جمہوری نہیں بلکہ طلبہ اور اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے،

آدتیہ ٹھاکرے نے مزید کہا کہ اگر حکومت اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ طلبہ تحریک میں سماج دشمن عناصر شامل ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس کا انٹیلی جنس نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر سدا بھاؤ کھوت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خود کوئی امتحان پاس نہیں کر سکے،

کھساری لال یادو نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کی جمع پونجی چوری ہو جائے تو اسے شدید تکلیف ہوتی ہے، اور طلبہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ ان کے مطابق نوجوان برسوں سے محنت کر رہے تھے، لیکن اب انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ان کا مستقبل ہی ان سے چھین لیا گیا ہو۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران جم کر ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اسدالدین اویسی نے اس سے متعلق مودی حکومت پرجم کر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران جو ہوا، وہ شاید اب آپ لوگ بھول رہے ہیں۔ ان ویڈیو کو اب عوام کو پھر سے دیکھنا چاہئے۔

مانسون سیشن کے دوسرے دن بھی پارلیمنٹ میں خوب ہنگامہ ہوا۔ پیپرلیک پر بحث کا مطالبہ اور طلبا پرہوئے لاٹھی چارج سے متعلق اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں میں حکومت کو گھیرا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے نے مائیک بند کرنے کا الزام لگایا۔

‎جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے۔

عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران زخمی طلبا کے لئے بڑا اعلان کرتے ہوئے ایک ہیلپ لائن نمبر جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلپ لائن نمبر- 8588833548 ہم آپ کے لئے لیگل ٹیم دستیاب کرائیں گے۔ ہم سب ایک ہیں۔ آپ سب ہمارے بچے ہو۔ آپ بالکل گھبرانا مت، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ لڑائی ہم مل کرلڑیں گے۔

کسانوں کے دہلی مارچ کے اعلان کے بعد انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہو گئی ہے۔ شمبھو بارڈر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ دونوں جانب سڑکوں پر بیریکیڈز لگا دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

پولیس نے مختلف مقامات سے متعدد مظاہرین اور تشدد میں ملوث افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس ویڈیو فوٹیج کی مدد سے تشدد میں ملوث دیگر افراد کی بھی شناخت کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 10 آئی پی ایس اور ڈینیپس افسران شامل ہیں۔ پولیس کے پاس تشدد سے متعلق 40 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔