نئی دہلی: سی جے پی کی جانب سے پارلیمنٹ کی طرف احتجاجی مارچ کے دوران پیر کے روز ہونے والے تشدد میں 50 سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ دہلی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں آئی پی ایس اور ڈینیپس افسران بھی شامل ہیں۔ پولیس نے تشدد کے سلسلے میں مقدمات درج کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے مختلف مقامات سے متعدد مظاہرین اور تشدد میں ملوث افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس ویڈیو فوٹیج کی مدد سے تشدد میں ملوث دیگر افراد کی بھی شناخت کر رہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 10 آئی پی ایس اور ڈینیپس افسران شامل ہیں۔ پولیس کے پاس تشدد سے متعلق 40 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق تشدد میں ملوث کئی افراد نے کپڑے سے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔ پولیس ذرائع نے کہا کہ زخمی اہلکاروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض اہلکاروں کا علاج ابھی شروع ہونا باقی ہے۔
دہلی پولیس کی مظاہرین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل
دہلی پولیس نے پیر کے روز تمام مظاہرین سے امن برقرار رکھنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور عوامی نظم و ضبط قائم رکھنے میں پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔ دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’تمام شرکا سے درخواست ہے کہ وہ پرامن انداز میں اپنا احتجاج کریں، کسی بھی غیر قانونی یا پرتشدد سرگرمی میں ملوث ہونے سے گریز کریں اور ڈیوٹی پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی جانب سے جاری قانونی ہدایات پر عمل کریں۔‘‘ پولیس نے عوام کو افواہوں، غلط معلومات یا کسی بھی پلیٹ فارم پر گردش کرنے والے غیر مصدقہ مواد پر یقین کرنے یا اسے آگے پھیلانے سے بھی خبردار کیا۔ پولیس نے کہا ’’شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ معلومات کے لیے صرف مستند ذرائع پر انحصار کریں اور امن، ہم آہنگی اور عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں دہلی پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔‘‘
دھرمیندر پردھان کے استعفے تک جاری رہے گا احتجاج
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ایک وفد نے پیر کے روز اپنے مطالبات کے سلسلے میں مرکزی وزیرِ صحت جے پی نڈا سے ملاقات کی۔ مرکزی وزیر نے مظاہرین سے دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی۔ راجیہ سبھا میں قائدِ ایوان جے پی نڈا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پیر کی صبح پہلی مرتبہ مظاہرین کی جانب سے حکومت کے ساتھ بات چیت کی تجویز پیش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت تقریباً صبح 11 بج کر 50 منٹ پر شروع ہوئی اور ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے کہا، ’’پہلے تفصیلی زبانی گفتگو ہوئی اور تقریباً شام 4 بجے مجھے ایک تحریری عرضداشت بھی دی گئی۔ میں نے تمام مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے اور حالات کو معمول پر لانے میں انتظامیہ کی مدد کرنے کی اپیل کی۔‘‘ سی جے پی کے چیف ترجمان سورَو داس نے بتایا کہ وفد نے جے پی نڈا کے سامنے تین مطالبات رکھے۔ ان میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، مبینہ طور پر جان گنوانے والے نیٹ امیدواروں کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے اور اسپتال میں زیرِ علاج کارکن سونم وانگچک کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ داس نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے جے پی نڈا سے دو مرتبہ ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ہم نے اپنے تین مطالبات پیش کیے۔ پہلا مطالبہ سونم وانگچک کی فوری رہائی کا ہے۔ دوسرا مطالبہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کا ہے۔ انہیں کابینہ سے برطرف کیا جائے یا وہ رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیں۔ استعفیٰ ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ تیسرا مطالبہ ان نیٹ امیدواروں کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا ہے، جن میں سے 20 سے زائد اپنی جان گنوا چکے ہیں۔‘‘ داس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بھی مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباً چار گھنٹے تک جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر موجود رہے۔ انہوں نے کہا، ’’مطالبات سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جن میں دھرمیندر پردھان کا فوری استعفیٰ یا برطرفی بھی شامل ہے۔‘‘ داس کے مطابق وزیر نے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو مناسب سطح پر اٹھائیں گے، تاہم ابھی تک کوئی یقین دہانی یا وعدہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پرامن مظاہرین اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
