نئی دہلی: دہلی کے جنترمنتراحتجاج کے دوران خاتون کوتھپڑ مارنے والے ایڈیشنل ڈی سی پی سندیپ لامبا سے متعلق ایک بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ انہیں کناٹ پلیس سے ہٹاکر واپس شمال مشرقی دہلی میں بھیج دیا گیا ہے۔ 20 جولائی کو کاکروچ جنتا پارٹی کے پارلیمنٹ مارچ (سنسد چلو) کے دوران انہوں نے ایک خاتون کوتھپڑمارا تھا اوراس کا ویڈیوسوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا تھا۔ اس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اب پروٹیسٹ سائٹ (جنتر منتر) سے ہٹاکرانہیں اپنے ضلع میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔ وہ دہلی کے شمال مشرقی ضلع کے ایڈیشنل ڈی سی پی ہیں۔ خاتون کو تھپڑ مارنے کے بعد انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔ حالانکہ سندیپ لامبا کا کہنا ہے کہ ان کے پیر میں کافی چوٹ لگی ہے اوران کی وردی بھی پھاڑ دی گئی۔
20 جولائی کو خاتون کومارا تھا تھپڑ
دراصل، پیر(20 جولائی) کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک خاتون جو سی جے پی کے پارلیمنٹ مارچ کا حصہ تھیں، اس کی کچھ پولیس اہلکاروں سے بحث ہو رہی ہے۔ خاتون کے ہاتھ میں ایک بہت چھوٹی سی ڈنڈی بھی نظرآرہی ہے۔ اسی دوران وہاں ایڈیشنل ڈی سی پی سندیپ لامبا کچھ پولیس اہلکاروں کے ساتھ پہنچے اور خاتون کو تھپڑ مارتے ہوئے نظرآئے۔
Sandeep Lamba, Additional DCP of Delhi Police, slapped a girl in the face on camera.
How can a male police officer even touch a female protestor, let alone slapping her?
I hope someone sue this arrogant prick. #CJPProtests pic.twitter.com/ttkgBicfZR
— Jaswinder kaur (@TheReal_Jassi) July 21, 2026
سندیپ لامبا نے لگایا وردی پھاڑنے کا الزام
اس کے بعد نہ صرف سوشل میڈیا پرسندیپ لامبا کی مخالفت شروع ہوگئی بلکہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نمبرپردھمکیاں بھی آنے لگیں، جس کے بعد فی الحال سندیپ لامبا کو پروٹیسٹ سائٹ (احتجاج کے مقام) سے ڈیوٹی سے ہٹاکرواپس انہیں اپنے ضلع میں بھیج دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

