Bharat Express DD Free Dish

China

امریکہ نے حال ہی میں ایران سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر کئی چینی ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد چین نے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو نہ ماننے کی ہدایت دی تھی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ان کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

امریکہ نے ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام سے منسلک 10 افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں چین، ہانگ کانگ، دبئی اوربیلاروس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کررہی تھیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو بچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ذمہ دار افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

چین نے ایران میں جوہری تنصیبات اور 133 تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے منگل کے روز پریس بریفنگ میں حکومت کا موقف پیش کیا۔

رپورٹس کے مطابق جس عمارت میں آگ لگی، اس میں ایک ہوٹل بھی موجود تھا۔ چائنا نیوز ڈاٹ کام کے مطابق آگ عمارت کے مشرقی حصے میں شمال-جنوب راستے کے قریب بھڑکی، جس نے تیزی سے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی اس جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس اور چین کی ممکنہ مدد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں طاقتیں مختلف طریقوں سے ایران کی معاونت کر رہی ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی بحری سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے فوراً بعد چین نے اپنی پالیسی واضح کی۔ بیجنگ نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی سخت مخالفت کی اور تہران کی حمایت کا اعلان کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ حمایت محض جذباتی یا بلا شرط نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے چین کے کئی اقتصادی اور سکیورٹی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

گلگوٹیاز یونیورسٹی کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں شامل ہونے کے دوران ایک تنازعہ کے بعد اسٹال سے تمام سامان ہٹانے اور سمٹ سے باہر کرنے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وزارت آئی ٹی نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ سمٹ میں اپنے اسٹال کو فوری طور پر خالی کرے۔ اس کے بعد یونیورسٹی کے اسٹال سے تمام آلات اور پیش کی جانے والی ٹیکنالوجی کو ہٹا دیا گیا۔