Bharat Express DD Free Dish

China

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈوکلام تنازعہ کے دوران بھی چین کی نظریں اسی راہداری پر مرکوز تھیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی ممکنہ جنگی صورتحال میں اگر اس تنگ راہداری کو بند کر دیا جائے تو پورا شمال مشرقی بھارت ملک کے باقی حصوں سے کٹ سکتا ہے۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کافی عرصے سے یہاں ایک مضبوط سیکورٹی ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی تاریخی ملاقات کے دوران امریکی حکام سے بھی ملاقات کی۔  اس دوران صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین میں امریکی کمپنیوں کے لیے اور بھی بڑے مواقع ہوں گے۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران سے خام تیل خریدنے کے معاملے پر کئی چینی ریفائنریوں پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد چین نے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں کو نہ ماننے کی ہدایت دی تھی۔ بیجنگ کی وزارت خارجہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ ان کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

امریکہ نے ایران کے ڈرون اورمیزائل پروگرام سے منسلک 10 افراد اورکمپنیوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ ان کمپنیوں میں چین، ہانگ کانگ، دبئی اوربیلاروس کی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل سامنے آیا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں ایران کو ہتھیار اور فوجی سازوسامان فراہم کررہی تھیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش اور زخمیوں کو بچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ذمہ دار افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

امریکی حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ملک کے اندر میزائل اور ڈرون سے متعلق سامان کی نقل و حرکت کو روکنا تھا۔

چین نے ایران میں جوہری تنصیبات اور 133 تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصان کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے منگل کے روز پریس بریفنگ میں حکومت کا موقف پیش کیا۔