Bharat Express DD Free Dish

China

ڈرون اب جدید جنگ اور سکیورٹی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ امریکہ جدید ترین فوجی ڈرونز اور تکنیکی صلاحیت کے معاملے میں مضبوط پوزیشن رکھتا ہے، جبکہ چین بڑے پیمانے پر یو اے وی ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے۔ ترکیہ نے بائراکتار جیسے ڈرونز کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ بھارت بھی مقامی ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید یو اے وی سسٹمز کے ذریعے اپنی فوجی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق فوجیان میں طوفان کی آمد سے قبل ہفتہ کی شام تک تقریباً 99 ہزار افراد کو خطرے والے علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا تھا۔ ژی جیانگ اور فوجیان میں 200 سے زیادہ فیری روٹس پر سروس معطل کردی گئی ہے۔طوفان کے پیش نظر جمعہ کی صبح تک 474 تعمیراتی جہازوں کو بندرگاہوں پر واپس بلا لیا گیا تھا، جبکہ سمندر میں جاری مختلف منصوبوں پر کام بھی روک دیا گیا۔

بحرالکاہل (انڈو پیسیفک) خطے میں عوامی جمہوریہ چین (پیپلز ریپبلک آف چائنا) کی مبینہ ’گرے زون‘ حکمتِ عملی کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

چین میں ایک بار پھر کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ صرف جون کے مہینے میں تقریباً 79 ہزار نئے مریض سامنے آئے ہیں، جبکہ اومیکرون کے نئے ذیلی ویریئنٹ NB.1.8.1 کے تیزی سے پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔

بھارتی طلبہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی نوجوان صلاحیتیں سونے کی طرح چمک رہی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے مطابق تعزیتی تقریبات ہفتہ اور اتوار کو بھی جاری رہیں گی۔ اس دوران مرحوم کا جسدِ خاکی گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کے روز تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، جبکہ بعد کی مذہبی رسومات مقدس شہر قم میں ادا کی جائیں گی۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ (UN) کے ہیڈکوارٹر کے باہر چین مخالف احتجاج کے دوران ایک شخص نے ہاتھ میں تبتی پرچم تھامے خود کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ موقع سے ’’چین، تبت چھوڑو‘‘ کے نعرے درج پمفلٹ بھی برآمد ہوئے۔

دھماکے کے فوراً بعد پولیس، فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت علاقے میں لوگوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے تاکہ تحقیقات اور امدادی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک چین کے پاس جوہری وارہیڈز کی تعداد 620 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) لانچرز کی تعداد کے معاملے میں وہ امریکہ اور روس کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کا پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے چین کی جانب سے پیش کیے گئے دور اندیش چار نکاتی منصوبے کو بھی سراہا۔