Bharat Express DD Free Dish

China

بھارتی طلبہ نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ اس تاریخی کامیابی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی نوجوان صلاحیتیں سونے کی طرح چمک رہی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے مطابق تعزیتی تقریبات ہفتہ اور اتوار کو بھی جاری رہیں گی۔ اس دوران مرحوم کا جسدِ خاکی گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ اس کے بعد پیر کے روز تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا، جبکہ بعد کی مذہبی رسومات مقدس شہر قم میں ادا کی جائیں گی۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ (UN) کے ہیڈکوارٹر کے باہر چین مخالف احتجاج کے دوران ایک شخص نے ہاتھ میں تبتی پرچم تھامے خود کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ موقع سے ’’چین، تبت چھوڑو‘‘ کے نعرے درج پمفلٹ بھی برآمد ہوئے۔

دھماکے کے فوراً بعد پولیس، فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور متاثرہ علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت علاقے میں لوگوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے تاکہ تحقیقات اور امدادی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 تک چین کے پاس جوہری وارہیڈز کی تعداد 620 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) لانچرز کی تعداد کے معاملے میں وہ امریکہ اور روس کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے صدر شی جن پنگ کا پاکستان کی مخلصانہ امن کوششوں کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے چین کی جانب سے پیش کیے گئے دور اندیش چار نکاتی منصوبے کو بھی سراہا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈوکلام تنازعہ کے دوران بھی چین کی نظریں اسی راہداری پر مرکوز تھیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی ممکنہ جنگی صورتحال میں اگر اس تنگ راہداری کو بند کر دیا جائے تو پورا شمال مشرقی بھارت ملک کے باقی حصوں سے کٹ سکتا ہے۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کافی عرصے سے یہاں ایک مضبوط سیکورٹی ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ ملاقاتوں کے دوران ان کے اور شی جن پنگ کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو کوئی ہتھیار نہیں بھیج رہے۔ یہ ایک اچھا وعدہ ہے اور میں ان کی بات پر بھروسہ کرتا ہوں۔

بیجنگ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات خاصی بحث میں رہی۔ شی جن پنگ نے امریکہ کو کمزور قرار دیتے ہوئے مغربی ممالک کے زوال کا ذکر کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی تاریخی ملاقات کے دوران امریکی حکام سے بھی ملاقات کی۔  اس دوران صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین میں امریکی کمپنیوں کے لیے اور بھی بڑے مواقع ہوں گے۔