Bharat Express DD Free Dish

Bulldozer

۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسی علاقے میں ہندو خاندانوں کے گھروں پر بلڈوزر کارروائی ہوئی تھی، تب بھی انہوں نے آوازاٹھائی تھی اوراب مسجد کے خلاف کارروائی پر بھی احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے اپنے علاقے میں ان کی ہدایت پر بلڈوزر چلایا گیا۔

کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادری اس وقت ایک نہایت مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر خبردار کیا اور کہا کہ مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔

راجستھان کے کراولی میں 2 اپریل 2022 کے فسادات کے ملزم امین الدین خان کے تجارتی کمپلیکس کو غیر قانونی قرار دیکر انتظامیہ نے بلڈوزر چلا دیا۔

پولیس افسران کے مطابق، ترکمان گیٹ کے قریب واقع فیضِ الٰہی مسجد کے آس پاس سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں، جہاں منگل کی دیر رات میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) نے تجاوزات ہٹانے کی مہم چلائی تھی۔

عدالت نے کہا کہ یہ معاوضہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مستقبل میں حکومتیں مناسب طریقہ کار کے بغیر لوگوں کے مکانات گرانے سے گریز کریں۔ ججوں نے منظر عام پر آنے والی ایک حالیہ ویڈیو کا بھی حوالہ دیا جس میں ایک لڑکی اپنی کتابیں لے کر گرتی ہوئی جھونپڑی سے بھاگتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس انہدامی کاروائی کے خلاف سونا پور کے ان لوگوں کی درخواست دائر کرتے ہوئے وکیل عدیل احمد نے کہا کہ ان کے گھروں کو پہلے کسی قسم کا کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ ان کے گھروں کو اچانک غیر قانونی تعمیرات قرار دے کر بلڈوزر بھی بھیجے گئے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اس ہدایت کا اطلاق سڑکوں، فٹ پاتھ یا ریلوے لائنوں کو بلاک کرکے کی جانے والی غیر قانونی تعمیرات پر نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام فریقین کو سننے کے بعد بلڈوزر کارروائی کے حوالے سے ملک بھر میں لاگو کرنے کے لیے رہنما اصول بنائے جائیں گے۔

عدالت نے بلڈوزر کی کارروائی پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی جائیداد کو صرف اس لیے نہیں گرایا جا سکتا کہ وہ اس شخص کی ہے جس پر جرم کا الزام ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر رہنما خطوط طے کرنے کی تجویز بھی دی۔

عدالت نے یہ ہدایت مدرسہ بحرالعلوم اور متعدد قبروں کے ساتھ مسجد کے انہدام کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران دی۔ یہ درخواست دہلی وقف بورڈ کی منیجنگ کمیٹی نے 2022 سے زیر التوا ایک عرضی میں دائر کی ہے۔دہلی وقف بورڈ کی منیجنگ کمیٹی نے کہا کہ مسجد اور مدرسہ کو 30 جنوری کو منہدم کر دیا گیا تھا۔

نوح میں گزشتہ چار روز سے مسماری کا سلسلہ جاری تھا۔ اس دوران 753 سے زائد مکانات، دکانیں، شوروم، کچی آبادیوں اور ہوٹلوں کو مسمار کیا گیا ہے۔ انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ نے کہا کہ ان میں رہنے والے لوگ 31 جولائی کے تشدد میں ملوث تھے۔