Bharat Express DD Free Dish

BJP

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آخری سینئر مسلم آئی پی ایس افسر ایس اے رضوی، جو اسپیشل ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو مشیر کے طور پر نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی میں ٹرانسفر کیا گیا تھا۔یہ دیکھا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں آئی بی میں مسلم آئی پی ایس افسران کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

جمعرات اور جمعہ کو بھی منی پور کے معاملے پر ہنگامہ آرائی سے پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہوئی۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ منی پور کی صورتحال پر قاعدہ 267 کے تحت لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بحث کی جائے۔ تاہم حکومت رول 176 کے تحت بحث کرنا چاہتی ہے۔

منی پورواقعہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ نے کہا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے، ایے ناساز گار حالات ہونے کے باوجود وزیر داخلہ امت شاہ تین سے چار دنوں تک وہاں رہے، تاہم واقعہ میں لاپرواہی برتی گئی، یہ واقعہ افسوس ناک ہے

بی جے پی کسان مورچہ کے لیڈر سنجیو رانا نے کہا کہ جب تک وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر سے ہماری بات پر جواب نہیں مل جاتا، تب تک ہم اس پر قائم رہیں گے۔

مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ملک کی کچھ ریاستوں میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ریاستوں میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بیگوسرائے میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے، لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس پر ایک لفظ بھی نہیں بولے

دراصل دونوں خواتین کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا تھا اور مرکزی اور ریاستی حکومت کو پھٹکار لگائی تھی اور کہا تھا کہ حکومت اس پر فوری کارروائی کرے ورنہ ہم کریں گے۔

اس واقعہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اپوزیشن بھی بی جے پی حکومت پر حملہ آور ہے۔ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ کے استعفیٰ اور ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ منی پور میں انسانیت مر گئی ہے۔

منی پور پولیس نے سینا پتی ضلع کے ایک گاؤں میں ہجوم کے ذریعہ دو خواتین کی پٹی پریڈ اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں ایک اہم ملزم کو گرفتار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ نے کہا کہ وہ تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائیں گے اور سزائے موت دلوانے کی بھی کوشش کریں گے۔

روی شنکر پرساد نے کہا کہ "جب وزیر اعظم نے صبح سویرے اس معاملے پر اتنی توجہ دی تو ملک میں شراکت داری کا اشارہ ہونا چاہیے تھا کہ پوری پارلیمنٹ ایک ہے، پورا ملک ایک ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ منی پور میں اس کا پیغام کتنا مثبت ہوگا۔ لیکن اپوزیشن کس پر بحث کرنا چاہتی ہیں، شق پر بحث کرنا چاہتی ہیں، یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔

اس سب کے درمیان اپوزیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی سے منی پور میں تشدد پر پارلیمنٹ میں بیان دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کچھ پارٹیوں نے مانسون اجلاس کے پہلے دن منی پور پر تحریک التواء لانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔