Urdu Conclave 2026

BJP

پروین شنکر کپور نے کہاکہ بی جے پی اے اے پی ایم ایل اے کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن یہ الزامات جھوٹے ہیں اور ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے اے اے پی کی طرف سے کوئی مواد پیش نہیں کیا گیا ہے۔

آرجے ڈی لیڈرتیجسوی یادونے بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارسے متعلق بڑا دعویٰ کیا ہے۔ تیجسوی یادونے کہا کہ نتیش کمار4 جون کے بعد بڑا فیصلہ لیں گے۔ پارٹی کوبچانے کے لئے نتیش کماربڑا فیصلہ لیں گے۔

مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت ایک بارپھر ہلچل شروع ہوگئی، جب این سی پی لیڈر چھگن بھجبل نے صوبے کی 288 اسمبلی سیٹوں میں 90 سیٹیں این سی پی امیدواروں کے لئے مانگنے کی بات کہی۔

چھگن بھجبل نے مزید کہا، "ہمیں ان (بی جے پی) کو بتانا چاہیے کہ ہم الیکشن لڑنے کے لیے زیادہ سیٹیں چاہتے ہیں تاکہ ہم تقریباً 50 سے 60 سیٹیں جیت سکیں۔" ریاست کی 288 سیٹوں میں سے بی جے پی نے 2019 کے اسمبلی انتخابات میں 105 سیٹیں جیتی تھیں

پی ایم مودی نے کہا، پارلیمنٹ میں ہمارے ایک ساتھی نے 101 گالیوں کا حساب لگایا تھا، اس لیے الیکشن ہوں یا نہ ہوں، یہ لوگ (اپوزیشن) مانتے ہیں کہ انہیں گالی دینے کا حق ہے اور وہ اس لیے مایوس ہیں کہ گالی اور گالی گلوچ ان کی فطرت بن چکی ہے۔

کولکتہ ہائی کورٹ نے ٹی ایم سی کے خلاف بی جے پی کے اشتہار پر پابندی لگا دی تھی۔ بی جے پی نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ کولکتہ ہائی کورٹ نے ان کا فریق سنے بغیر یکطرفہ طور پر حکم دیا ہے۔ کولکتہ ہائی کورٹ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو بھی سخت سرزنش کی ہے۔

ہماچل بی جے پی نے لاہول سپتی سے چھ عہدیداروں کو نکال دیا ہے۔ یہ کاروائی پارٹی امیدوار کے خلاف کام کرنے پر ہوا ہے۔ ہماچل میں بی جے پی سے نکالے گئے تمام عہدیداروں پر پارٹی امیدوار روی ٹھاکر کے خلاف کام کرنے کا الزام ہے۔

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکز پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ 2014 میں وہ کہتے تھے کہ میں پردھان سیوک ہوں۔ 2019 میں اس نے کہا کہ میں چوکیدار ہوں اور آج کہہ ر ہے ہیں کہ میں بھگوان کا اوتار ہوں۔

یو سی سی 1950 کی دہائی سے بی جے پی کے ایجنڈے پر ہے اور حال ہی میں بی جے پی کے زیر اقتدار اتراکھنڈ میں اسے نافذ کیا گیا ہے۔ شاہ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ یکساں سول کوڈ ایک بہت بڑی سماجی، قانونی اور مذہبی اصلاحات ہے۔

ممتا بنرجی نے اتوار (26 مئی 2024) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "بی جے پی لوک سبھا انتخابات کے چھٹے مرحلے کے آغاز سے ہی بیک فٹ پر تھی۔