Urdu Conclave 2026

BJP

پون کھیڑا نے یہ بھی کہا کہ ملک کے بادشاہ پریشان ہیں۔ ہم نے ہمیشہ صاحب سے کہا ہے کہ اس کا علاج کروائیں۔ وزیراعظم کے عہدے کا ایک وقار ہے، اعلیٰ عہدے پر فائز وزیراعظم کے منہ سے غلط الفاظ نکلتے ہیں

بھارت ایکسپریس کے چیئرمین نے اوپیندر رائے نے مزید کہا کہ رواں برس کے لوک سبھا انتخاب کا نتیجہ اس بات کا غماز ہوگا کیا واقعی بی جے پی عوام کے درمیان مقبول ہے ؟

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایس ٹی حسن نےکہا کہ ہماری ہندو بہنوں کا بھی یہ کلچر ہے کہ وہ پردہ کرتی ہیں تو کیا آپ ان کا بھی گھنگٹ ہٹا دیں گے۔ یہ مناسب نہیں ہوگا۔

مرکزی ریلوے، مواصلات، انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو نے ہفتہ کو ہریانہ کے تاریخی شہر سرہول میں اپنا ووٹ ڈالا۔

اروند کیجریوال نے مزید لکھا کہ 'جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں آپ کا ہر ووٹ آمرانہ سوچ کے خلاف ہندوستان کی جمہوریت اور آئین کو مضبوط کرنے کے لیے ہوگا۔ پولنگ بوتھ پر جائیں اور اپنے ووٹ سے واضح کریں کہ ہندوستان میں جمہوریت ہے اور جمہوریت ہی رہے گی۔ جئے ہند۔'

کئی ریستوراں اور بارز نے ووٹروں کے لیے رعایت کا اعلان بھی کیا ہے۔ شام 6 بجے ووٹنگ ختم ہونے کے بعد وہسکی سامبا برانڈ دہلی کے لوگوں کو کل بل پر 20 فیصد رعایت دے رہا ہے۔ Chaayos میں، ووٹروں کو ہر آرڈر کے ساتھ ایک اعزازی میٹھا ملے گا۔ فوڈ ڈیلیوری کمپنیاں جیسے Swiggy اور Zomato آن لائن آرڈرز پر خصوصی کوپن کا فائدہ دے رہی ہیں۔

سی ایم یوگی نے کہا، پرسنل لاء کا مطلب ہے طالبان کا راج۔ بیٹیاں اسکول نہیں جا سکیں گی۔ خواتین بازار نہیں جا سکیں گی۔ انہیں برقعہ پہننا پڑے گا۔ یہ بھارت ہے، افغانستان، پاکستان تھوڑے ہے، کہ یہاں کوئی برقعہ پہنے گا، لیکن کانگریس کا منشور ہے کہ ہم پرسنل لاز نافذ کریں گے۔

ووٹرز کی تعداد کی بات کریں تو اس بار پہلی بار ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ دہلی میں پہلی بار 2.52 لاکھ ووٹر ووٹ ڈالیں گے۔ 1.52 کروڑ ووٹروں میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 82,12,794، خواتین ووٹرز کی تعداد 69,87.914 اور تیسری صنف کی تعداد 1228 ہے۔

اس مرحلے میں اتر پردیش کی 14، ہریانہ کی 10، مغربی بنگال اور بہار کی 8-8، دہلی کی 7، اڈیشہ کی 6، جھارکھنڈ کی 4 اور جموں و کشمیر کی 1 سیٹ پر ووٹنگ ہو رہی ہے۔

دراصل، گینسڑی اسمبلی سیٹ پرتقریباً سوا لاکھ مسلم رائے دہندگان ہیں، اس لئے اسے مسلم اکثریتی سیٹ مانا جاتا ہے۔ 80 ہزار سے زائد مسلم ووٹ پول ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس لئے تینوں پارٹیوں کے امیدوار مسلم ووٹوں پر خاص توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔