Bharat Express DD Free Dish

Bihar SIR

بہارمیں الیکشن کمیشن کے ذریعہ چل رہی ووٹرلسٹ خصوصی نظرثانی مہم یعنی ایس آئی آرسے متعلق سپریم کورٹ میں آج سماعت ہوئی ہے۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں کہا کہ الیکشن کیشن نے ہمارے مشوروں پرعمل کیا ہے۔ اس کی طرف سے حلف نامہ بھی دیا گیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آج کی یاترا گیاجی سے شروع کیا۔ اس تسلسل میں جیسے ہی ان کی یاترا گیاجی کے وزیر گنج پہنچا، انہوں نے اپنے قافلے کو روکا اور قریبی گاؤں منینی پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو اور عظیم اتحاد کے سرکردہ لیڈران بھی تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے گاؤں والوں سے بات چیت کی اور یہاں کے مسائل جانے۔

’’حال ہی میں کچھ سیاسی جماعتیں اور افراد انتخابی فہرست میں موجود پرانی غلطیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، حالانکہ ان پر اعتراض کرنے کا مناسب وقت دعویٰ اور اعتراض کی مدت تھی۔‘‘

گیانیش کمار نے اپوزیشن کی جانب سے میڈیا میں ووٹرز کی تصویریں دکھانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم نے کچھ دن پہلے دیکھا کہ کئی ووٹروں کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر میڈیا کے سامنے پیش کی گئیں، ان پر الزام لگایا گیا، ان کا استعمال کیا گیا، کیا الیکشن کمیشن کو ووٹرز، ان کی ماؤں، بہوؤں یا بیٹیوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرنی چاہیے؟ ووٹر لسٹ میں جن کے نام ہوتے، وہی اپنے امیدوار کو الیکشن کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔‘‘

سپریم کورٹ نے بہارووٹرلسٹ پرنظرثانی (ایس آئی آر) کی سماعت کی۔ ڈرافٹ لسٹ سے 65 لاکھ لوگوں کے نام نکال دیئے گئے ہیں۔ ہٹائے گئے لوگوں کے ناموں کے حوالے سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہٹائے گئے 65 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسے پبلک کریں۔ اس پرالیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹھیک ہے اگرآپ کا حکم ہے تو ہم کریں گے۔

رجیجو نے ایوان میں کہا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی کام قانون سازی ہے، اور اہم قانون سازی پر بحث کے لیے ارکان کو تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہر معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن آئینی قواعد اور روایات کے مطابق، خود مختار اداروں جیسے الیکشن کمیشن کے انتظامی امور پر بحث نہیں کی جا سکتی۔

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ سے ان کا نام غائب ہے، اب وہ الیکشن کیسے لڑ سکیں گے؟ تیجسوی یادو نے کہا کہ میرا نام ووٹر لسٹ میں نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ اب الیکشن کیسے لڑوں گا؟ تیجسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے SIR کے دوران گنتی کا فارم بھی بھرا تھا۔ اس کے باوجود نام حذف کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسے گڑبڑ گھوٹالہ قرار دیا۔

اس واقعے نے نہ صرف سوشل میڈیا پر میمز کی باڑھ لا دی، بلکہ ایک نہایت حساس سیاسی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب الیکشن کمیشن بہار میں ایس آئی آر کر رہی ہے۔