وفاقی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ (6 اگست 2025) کو کہا کہ بہار میں جاری ایس آئی آر پر لوک سبھا میں بحث نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لوک سبھا کے قواعد کے مطابق، وہ معاملات جو عدالت میں زیر غور ہوں، ایوان میں زیر بحث نہیں لائے جا سکتے۔ رجیجو نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا جیسے خود مختار اداروں کے کام کاج پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ آئینی ادارے اپنے دائرہ اختیار میں آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے احتجاج کے جواب میں یہ بات کہی، جو بہار کے انتخابی فہرستوں کی ترمیم کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اپوزیشن نے بہار میں جاری ایس آئی آر کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹروں کی بڑی تعداد کو انتخابی فہرستوں سے ہٹایا جا رہا ہے، جو کہ ریاستی انتخابات سے قبل ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ رجیجو نے ایوان میں کہا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی کام قانون سازی ہے، اور اہم قانون سازی پر بحث کے لیے ارکان کو تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہر معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن آئینی قواعد اور روایات کے مطابق، خود مختار اداروں جیسے الیکشن کمیشن کے انتظامی امور پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ایوان کے کام کاج کو متاثر کرنے کے بجائے اہم قانون سازی میں حصہ لیں۔
اس معاملے نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں جاری تعطل کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں اپوزیشن کی جانب سے مسلسل احتجاج کی وجہ سے قانون سازی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ رجیجو نے سابق لوک سبھا اسپیکر بال رام جاکھڑ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن جیسے آئینی اداروں کے کام کاج پر ایوان میں بحث نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کون سے معاملات ایوان میں زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ دریں اثنا، اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبے پر ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور اگر حکومت نے ایس آئی آر پر بحث کی اجازت نہ دی تو سیشن تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
