نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بہارکی ووٹرلسٹ ریویژن (ایس آئی آر) کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ ڈیلیٹ کئے گئے 65 لاکھ ووٹوں کا ڈیٹا پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ انہیں پبلک کریں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹھیک ہے اگرآپ کا حکم ہے توہم کریں گے۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ شہریوں کے حقوق سیاسی پارٹیوں کے کارکنان پرمنحصر ہوں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ نے سنا ہوگا کہ ڈرافٹ رول میں مردہ یا زندہ لوگوں کا سنگین تنازعہ ہے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ آپ کے پاس ایسے لوگوں کی شناخت کا کیا طریقہ کارہے؟ تاکہ گھروالوں کومعلوم ہوسکے کہ ان کے ممبرکو مردہ لوگوں کی فہرست میں کیوں شامل کردیا گیا؟ سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ ڈیلیٹ کئے گئے لوگوں کی فہرست بھی ویب سائٹ پر ڈال دیں، تاکہ لوگوں کوحقیقت کا علم ہوسکے۔ آدھارنمبریا رجسٹرڈ کوئی اوردستاویز، ای پی آئی سی اورنام ہٹائے جانے کی وجہ واضح کریں۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو دیا یہ حکم
الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک ہے ہم ہراسمبلی حلقہ کے مطابق، ویب سائٹ پریہ معلومات فراہم کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہٹائے گئے لوگوں کی فہرست ضلعی سطح پرجاری کریں گے۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ ہم صرف اس معلومات کوعام کرنا چاہتے ہیں۔ جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ پونم دیوی کے اہل خانہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کا نام اس لئے ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ ان کی موت ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ آپ یہ کب کرسکتے ہیں؟ جسٹس باغچی نے کہا کہ ہم اسے 48 گھنٹے کے اندرکرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے 2003 کی بہار ووٹرلسٹ کی نظرثانی سے متعلق پوچھا سوال
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ 2003 کی بہارووٹرلسٹ کی نظرثانی میں خیال کئے گئے دستاویزوں کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن ہمیں بتائے کہ 2003 کی قواعد میں کون سے دستاویزات لئے گئے تھے۔ درحقیقت درخواست گزاروں کے وکیل نظام پاشا نے سپریم کورٹ کوبتایا کہ اگریکم جنوری 2003 کی تاریخ چلی جاتی ہے، توسب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل راکیش دویدی نے کہا کہ مجھے دوسری طرف کے وکلاء کی ان کی تعاون اورشراکت کے لئے تعریف کرنی چاہئے۔ یہ مستقبل کے نظریے سے ایک اچھی علامت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



