بہار کے ضلع پٹنہ کے ماساڑھی علاقے میں ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے پورے ہندوستان میں سرخیاں بٹور لی ہیں۔ حیران کن طور پر وہاں ایک کتے کو سرکاری طور پر رہائشی سرٹیفکیٹ مل گیا ہے، جس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ کاغذات کے مطابق ’’رہائشی‘‘ کا نام ’’ڈاگ بابو‘‘ ہے اور اس کے والد کا نام ’’کُتّا بابو‘‘ اور والدہ کا نام ’’کتیا دیوی‘‘۔ جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا، یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ ایک باضابطہ سرکاری دستاویز ہے۔
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد سرکاری نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی اس معاملے کا علم ہوا، سرٹیفکیٹ کو منسوخ کر دیا گیا اور درخواست گزار، کمپیوٹر آپریٹر اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے افسر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔ مزید برآں ایک سب ڈویژنل افسر کو اس معاملے کی تفتیش کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دے دیا گیا ہے، تاکہ پتہ چلے یہ ’’ڈاگ بابو‘‘ کس طرح سرکاری کاغذات کا حصہ بن گیا۔
मसौढ़ी अंचल में ‘डॉग बाबू’ के नाम से निवास प्रमाण पत्र निर्गत करने का मामला प्रकाश में आया है। मामला संज्ञान में आते ही उक्त निवास प्रमाण पत्र रद्द कर दिया गया है।
साथ ही आवेदक, कंप्यूटर ऑपरेटर एवं प्रमाण पत्र निर्गत करने वाले पदाधिकारी के विरुद्ध स्थानीय थाना में प्राथमिकी… pic.twitter.com/POxB4nXFch
— District Administration Patna (@dm_patna) July 28, 2025
تاہم اس واقعے نے نہ صرف سوشل میڈیا پر میمز کی باڑھ لا دی، بلکہ ایک نہایت حساس سیاسی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب الیکشن کمیشن بہار میں ایس آئی آر کر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ’’ڈاگ بابو‘‘ جیسے کتے کو سرکاری کاغذات مل سکتے ہیں، تو عام انسانوں کے لیے یہ نظام کتنا محفوظ اور معتبر ہے؟ یوگندر یادو نے اس دستاویز کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اپنی آنکھوں سے دیکھ لیجیے! بہار میں 24 جولائی کو ایک کتے نے رہائشی سرٹیفکیٹ بنوا لیا۔ یہ وہی سرٹیفکیٹ ہے جسے ایس آئی آر میں تسلیم کیا جا رہا ہے، جب کہ آدھار کارڈ اور راشن کارڈ کو فرضی بتایا جا رہا ہے۔‘‘
अपनी आँखों से देख लीजिए!
बिहार में 24 जुलाई को एक कुत्ते ने आवास प्रमाण पत्र बनवा लिया। यह वही प्रमाणपत्र है जिसे बिहार में SIR में मान्य किया जा रहा है, जबकि आधार और राशन कार्ड को फ़र्ज़ी बताया जा रहा है।
आप ख़ुद फ़ोटो और नाम जाँच लीजिए:
‘डॉग बाबू’, पिता का नाम ‘कुत्ता बाबू’,… pic.twitter.com/ZBOvrgqIyq— Yogendra Yadav (@_YogendraYadav) July 27, 2025
یہ واقعہ نہ صرف سرکاری انتظامات پر سوالیہ نشان ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ بہار حکومت کو چاہیے کہ جلد از جلد اس قسم کی غلطیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے، ورنہ اگلی بار شاید ’’بلی بیگم‘‘ یا ’’گیدڑ خان‘‘ بھی رہائشی سرٹیفکیٹ کے ساتھ سامنے آ سکتے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


