Bharat Express DD Free Dish

Bihar Police

دہلی کے روہنی علاقے میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو دہلی پولیس اور بہار پولیس کی مشترکہ ٹیم نے ایک بڑا آپریشن کیا، جس میں بہار کے 4 انتہائی مطلوب گینگسٹر کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان گینگسٹروں میں معروف گینگ کے سرغنہ رنجن پاٹھک بھی شامل تھا۔ یہ کارروائی 22-23 اکتوبر کی رات تقریباً 2:20 بجے ہوئی۔

دربھنگہ کے اتربیل میں ریلی کے دوران اسٹیج سے وزیراعظم مودی کو نازیبا الفاظ کہے گئے تھے۔ یہ پروگرام یوتھ کانگریس سے وابستہ محمد نوشاد نے کروایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی باہری شخص نے اسٹیج سے وزیراعظم کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔

پٹنہ میں بی جے پی اورکانگریس کارکنوں کے درمیان وزیراعظم مودی کے خلاف توہین آمیزتبصروں کے خلاف احتجاج میں پرتشدد جھڑپ ہوئی۔ پتھراؤسے کئی کارکنان زخمی ہوگئے ہیں۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ بی جے پی کارکنوں نے اس کے دفترپرحملہ کیا۔ کانگریس نے بہارمیں غنڈہ گردی کا الزام لگایا ہے۔

بہارکی سابق وزیراعلیٰ رابڑی دیوی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے تیجسوی یادو کی جان کوخطرہ ہے اورانہیں 4 بار مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آئیے پورا معاملہ آپ کو بتاتے ہیں۔

بہار پولیس نے کہا کہ پٹنہ پولیس تمام ملزمان کو مناسب کارروائی کے تحت پٹنہ لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس پورے معاملے میں کولکتہ پولیس اور ایس ٹی ایف کا تعاون انتہائی قابل ستائش تھا۔ کولکتہ پولیس کی طرف سے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے پٹنہ پولیس کو مسلسل تمام ضروری مدد فراہم کی۔

پولیس نے تمام 5 مجرموں کی شناخت کر لی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق پٹنہ پولیس اور ایس ٹی ایف کی مشترکہ ٹیم نے قتل میں ملوث مجرموں کی تلاش میں پھلواری شریف کے گلستان محلہ میں چھاپہ مارا۔بتادیں کہ پارس ہسپتال کےاندر ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود چوکیدار سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے کہ اس نے جرائم پیشہ افراد کو بغیر چیکنگ کے اسپتال میں کیسے داخل ہونے دیا۔ اس واقعہ سے اسپتال کے سیکورٹی نظام پر بھی سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔

اطلاع ملتے ہی جب پولیس اسے گرفتار کرنے پہنچی تو دونوں کے درمیان انکاؤنٹر ہوگیا۔اسی دوران پولیس نے راجہ کو گولی مار دی جس کی وجہ سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اس قتل کیس میں اومیش کمار نامی شوٹر کو سٹی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد ایف ایس ایل (فورنسک سائنس لیبارٹری) کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیے۔ اب تک کی تحقیقات میں پولیس نے موقع سے دو خالی کارتوس برآمد کیے ہیں، جنہیں فورنسک تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس فی الحال قتل کی وجوہات جاننے میں مصروف ہے۔

حکام نے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس واقعے پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ آر جے ڈی کے کئی لیڈروں اور کارکنوں نے تیجسوی یادو کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی سیکورٹی پر سوال اٹھائے ہیں۔