Bharat Express DD Free Dish

Bihar Assembly Election 2025

سال 2020 میں، چراغ نے ایک راستہ روکنے والا کردار ادا کیاتھا جس نے این ڈی اے میں سمی کرن کو بدل دیا اور جے ڈی یو اور نتیش کمار کی پوزیشن کو کمزور کر دیا۔ ایل جے پی نے 243 میں سے 134 سیٹوں پر مقابلہ کیا اور ووٹوں کی تقسیم کے لیے حکمت عملی کے ساتھ امیدواروں کو زیادہ تر جے ڈی یو کے خلاف کھڑا کیا۔

یہ ریزرویشن تمام قسم کی سرکاری ملازمتوں پر نافذ ہوگا۔الیکشن سے قبل نتیش حکومت کی طرف سے اس فیصلے کو ایک ماسٹر اسٹراک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ ابھی اس پر اپوزیشن کی جانب سے بیان آنا باقی ہے۔

صداقت آشرم میں منعقدہ پریس کانفرنس میں پارٹی کے ریاستی صدر راجیش رام نے کہا کہ چکہ جام موثر رہے گا۔ چکہ جام میں مہا گٹھ بندھن کی تمام جماعتیں شرکت کریں گی۔ ادھر کانگریس نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

اسدالدین اویسی نے سوال کیا کہ 2024 کی ووٹرلسٹ کو الیکشن کمیشن بنیاد کیوں نہیں بنا رہا ہے، جن رائے دہندگان نے 2024 میں ووٹ دیا آخر 2025 میں ان سے ان کی پہچان کیوں پوچھی جا رہی ہے؟

کپل سبل نے سینئر وکلاء ابھیشیک منو سنگھوی، شاداب فراصت اور گوپال شنکر نارائنن کے ساتھ سپریم کورٹ میں اس مسئلہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس عمل کی وجہ سے لاکھوں لوگوں، خاص کر خواتین اور غریب طبقے کے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے 24 جون 2025 کو بہار میں ووٹر لسٹ کے خصوصی جائزے کا اعلان کیا تھا، جس میں ووٹروں سے 11 مخصوص دستاویزات، جیسے کہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ یا والدین کے دستاویزات، جمع کرانے کی ضرورت تھی۔

پروفیسر انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی، لیکن جس طرح سے ان لوگوں کو محسوس ہوا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں ہے، یہ ملک کے لئے اورہماری جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

حال ہی میں جے ڈی یو ایم ایل اے ونے چودھری نے کہاتھا کہ پارٹی کے اندر زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ نشانت کو اب قیادت سنبھالنی چاہئے اور انہیں اسمبلی انتخابات بھی لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ نشانت قیادت کریں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے اندر زیادہ تر لوگوں کی یہی رائے ہے۔

واضح رہے کہ بہار کے سیمانچل علاقے میں اقلیتی ووٹوں کے لیے سخت مقابلہ ہوگا۔ کشن گنج میں 67 فیصد، کٹیہار میں 38 فیصد، ارریہ میں 32 فیصد اور پورنیہ میں 30 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔

پپو یادو نے کہا کہ یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے۔ ہمیں عوام کے درمیان جا کر ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اپوزیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ سڑکوں پر آکر اس تاناشاہی کے خلاف آواز بلند کریں۔