Bharat Express DD Free Dish

AIMIM to join Grand Alliance: اے آئی ایم آئی ایم نے مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کی خواہش کا کیا اظہار، اخترالایمان نے لالو یادو کو لکھا خط

واضح رہے کہ بہار کے سیمانچل علاقے میں اقلیتی ووٹوں کے لیے سخت مقابلہ ہوگا۔ کشن گنج میں 67 فیصد، کٹیہار میں 38 فیصد، ارریہ میں 32 فیصد اور پورنیہ میں 30 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان۔ (فائل فوٹو: اے این آئی)

بہار میں اے آئی ایم آئی ایم اس سال کے آخر میں ہونے والے بہار انتخابات میں متحدہ محاذ بنانے اور اقلیتی ووٹوں کو مستحکم کرنے کے لیے گرینڈ الائنس (مہاگٹھ بندھن) میں شامل ہونا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں بہار کے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور ایم ایل اے اختر الایمان نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو یادو کو ایک خط لکھا ہے، جس میں ان کی پارٹی کو گرینڈ الائنس میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اختر الایمان نے خط میں کہا ہے کہ مل کر الیکشن لڑنا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ’’سیکولر ووٹ‘‘ تقسیم نہ ہوں۔ ساتھ ہی اس سے بہار میں مہاگٹھ بندھن کی سرکار بننے کے امکانات بھی مزید بہتر ہوں گے۔ اخترالایمان نے ان کی درخواست پر فوری فیصلہ لینے کے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کو مہا گٹھ بندھن میں شامل کرنے کے بارے میں فوری فیصلہ نہ لینا آر جے ڈی کے لیے ایک ضائع ہونے والا موقع سمجھا جائے گا۔

ابھی لیں فیصلہ، الیکشن کے بعد ساتھ آنے کی توقع نہ رکھیں: اخترالایمان

اخترالایمان نے کہا کہ ’’ہم نے آر جے ڈی، کانگریس اور مہاگٹھ بندھن کی دیگر جماعتوں سے بات کی ہے۔ ان میں شامل ہونے کے لیے ایک تجویز بھیجی گئی ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ وہ جلد فیصلہ کریں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ (مہاگٹھ بندھن) ایسا نہیں کرتے ہیں تو انہیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم الیکشن کے بعد ان کے ساتھ رہیں۔

واضح رہے کہ بہار کے سیمانچل علاقے میں اقلیتی ووٹوں کے لیے سخت مقابلہ ہوگا۔ کشن گنج میں 67 فیصد، کٹیہار میں 38 فیصد، ارریہ میں 32 فیصد اور پورنیہ میں 30 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔ دریں اثنا ہندوستانی عوام مورچہ (HAM) کے قومی صدر اور بہار کے چھوٹے آبی وسائل کے وزیر سنتوش سمن نے الزام لگایا کہ آر جے ڈی-کانگریس اتحاد سیمانچل میں اقلیتی ووٹوں کو پولرائز کرنا چاہتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read