Bharat Express DD Free Dish

Bihar Assembly Election 2025

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے موصول ہونے والے فارموں کی تعداد 6.85 کروڑ سے زیادہ تھی جو کل گنتی کا تقریباً 87 فیصد ہے۔ ووٹر لسٹ کا مسودہ یکم اگست 2025 کو شائع کیا جائے گا اور اس کے بعد تصحیح کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا۔

آرجے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کوغیرجانبدارہونا چاہئے، لیکن کسی کے اشارے پرکمیشن نے اپنے طریقہ کارکو پوری طرح سے بدل لیا ہے۔

بہارمیں اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدراخترالایمان نے آرجے ڈی سربراہ لالوپرساد یادوکوخط لکھا تھا۔ اس میں اے آئی ایم آئی ایم کو عظیم اتحاد میں شامل کرنے کی گزارش کی تھی۔ اس خط میں کہا گیا تھا کہ آپ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ 2015 سے بہار کی سیاست میں اے آئی ایم آئی ایم اپنا سرگرم کردارنبھا رہی ہے۔

اویسی کی پارٹی نے پہلے آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کو خط لکھ کر اتحاد میں شامل ہونے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن آر جے ڈی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے الیکشن پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود سامنے نہیں آنا چاہتا، اس لئے سوتروں (ذرائع) کے حوالے سے خبرپلانٹ کررہا ہے۔ یہی وہی ذرائع ہیں، جنہوں نے لاہور اور کراچی پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس اجلاس میں کانگریس کی بہار یونٹ کے انچارج کرشنا الوارو، وکاس شیل انسان پارٹی کے صدر مکیش ساہنی اور تین بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈران نے شرکت کی۔

چراغ پاسوان نے چھپرا میں منعقد ’نو سنکلپ مہاسبھا‘ سے خطاب کرتے ہوئے بہار کی تمام سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ بہار آتے ہیں اور الیکشن لڑنے کی بات کرتے ہیں تو کئی لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کتنی سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے۔ ایسے میں آج میں اعلان کرتا ہوں کہ میں بہار کی تمام 243 سیٹوں پر الیکشن لڑوں گا۔

سپریم کورٹ میں کل 11 عرضیاں سنوائی کے لئے لگی تھیں۔ ان میں این جی او ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اورپیپلزیونین سول لبرٹیزکے علاوہ کانگریس، آرجے ڈی اورٹی ایم سی جیسی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی بھی عرضی تھی۔ عرضی گزارفریق نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن ناگرکتا یعنی شہریت کی جانچ نہیں کرسکتا۔

تیجسوی یادو نے سوال اٹھایا کہ یہ عمل الیکشن سے صرف دو مہینے قبل کیوں کیا جا رہا ہے، اور الزام لگایا کہ ایسی دستاویزات مانگی جا رہی ہیں جن تک غریب لوگ رسائی نہیں رکھتے۔ انہوں نے مہاگٹھ بندھن کے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس غیر منصفانہ عمل کے خلاف متحد ہو کر لڑیں۔

اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ نظرثانی عمل خاص طور پر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے ووٹنگ حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جبکہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن اسے شفافیت کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔