Bharat Express DD Free Dish

No One-Sided Love: Owaisi on Ties with INDIA Bloc: ’’یک طرفہ محبت نہیں ہونے والی‘‘، اسد الدین اویسی نے بہار میں انڈیا بلاک سے اتحاد پر دیا واضح بیان

اویسی کی پارٹی نے پہلے آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کو خط لکھ کر اتحاد میں شامل ہونے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن آر جے ڈی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

owaisi

اسد الدین اویسی۔ (فائل فوٹو)

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے پیر کو بہار اسمبلی انتخابات کے لیے انڈیا بلاک میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یک طرفہ محبت‘‘ کام نہیں کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بجائے ان کی پارٹی دوسرےمتبادل تلاش کر رہی ہے اور ممکنہ طور پر تیسرے محاذ کو تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ اویسی کی پارٹی نے آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کو خط لکھ کر اتحاد میں شامل ہونے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن آر جے ڈی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد اویسی نے آج اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یک طرفہ محبت نہیں ہونے والی ہے۔ بہار کے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ جھوٹ پر مبنی تھے اور اس لیے لگائے گئے تھے کہ وہ نہیں چاہتے کہ غریب اور مظلوم لوگوں کا لیڈر ان کی سیاسی قیادت بنے۔‘‘

پارٹی تیسرے محاذ کی تشکیل پر کر رہی ہے غور

اویسی نے بتایا کہ اے آئی ایم آئی ایم بہار کے صدر اختر الایمان نے تیسرا محاذ بنانے کا مشورہ دیا ہے، جس پر اویسی ایک قابل عمل متبادل کے طور پر غور کر رہے ہیں۔ اویسی نے اعلان کیا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم سیمانچل کے علاقے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے الیکشن لڑے گی، جہاں پارٹی کی مضبوط موجودگی ہے۔

دریں اثنا اویسی نے انڈیا بلاک پر الزام لگایا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ کوئی غریبوں اور مظلوموں کا لیڈر ابھر۔ اویسی نے کہا ’’وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے غلام رہیں، سر جھکا کر ان کے پیچھے چلیں۔‘‘ وہیں اپنی پارٹی کو ایک آزاد سیاسی قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم آئندہ انتخابات اپنی شرائط پر لڑنے اور ’’تیسرا محاذ بنانے‘‘ کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل، حیدرآباد میں اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اویسی نے شہریت کا تعین کرنے کے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے اختیار پر بھی سوال اٹھائے اور گمنام ذرائع پر انحصار کرنے کے بجائے آفیشیل بیانات نہ دینے پر کمیشن پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک آئینی ادارہ بیان نہیں دے رہا ہے اور ذرائع کے ذریعے چیزیں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ ذرائع کون ہیں؟ ای سی آئی کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ کوئی شہری ہے یا نہیں؟‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read