Bharat Express DD Free Dish

AIMIM Bihar

بہار راجیہ سبھا انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم نے آر جے ڈی کے امیدوار کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ پانچ اراکینِ اسمبلی کے ووٹوں سے مہاگٹھ بندھن کی راہ آسان ہو گئی ہے، لیکن اس کے بدلے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی ایک نشست پر ڈیل کی بات سامنے آئی ہے۔

بہار اسمبلی میں این ڈی اے کے 202 ارکان ہیں، لیکن پانچوں راجیہ سبھا کی نشستیں جیتنے کے لیے اسے تین اضافی ووٹ درکار ہیں۔ مہاگٹھ بندھن کے لیے ایک نشست جیتنے کے لیے چھ ووٹ درکار ہیں۔ ایسے میں اے آئی ایم آئی ایم اور بسپا کی حمایت کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ ان کے ووٹ کسی ایک نشست کے نتائج کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

امّور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے شرط کے ساتھ نتیش حکومت کی حمایت کی بات کی ہے۔ اس پر اب ٹرول گینگ نے پرشانت کشور کی جگہ انہیں B ٹیم کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قومی صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی سیمانچل کے عوام کے حقوق، انصاف اور ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

جہاں بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے این ڈی اے کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے وہیں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل علاقے میں ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے پانچ سیٹیں جیتی ہیں۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے گوپال گنج میں انتخابی مہم کے دوران اقلیتوں کی شمولیت، نوجوانوں کے مسائل اور سیاسی حقوق کے حوالے سے زوردار اپیل کی۔

اسد الدین اویسی کی پارٹی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین نے آئندہ بہار اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے 25 امیدواروں  کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔

بہار اسمبلی میں مسلم اراکین کی تعداد کبھی بھی 10 فیصد سے زیادہ نہیں رہی، سوائے 1985 کے جب بہار غیر منقسم تھا۔ اُس وقت 324 رکنی اسمبلی میں 34 مسلم اراکین منتخب ہوئے تھے۔ 2020 کے الیکشن میں صرف 19 مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے۔

اسمبلی انتخابات 2025 میں کشن گنج کی بہادرگنج نشست پر سیاسی مقابلہ دلچسپ ہو گیا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے لیے تمام پارٹیاں اور اتحاد انتخابی میدان میں اپنے امیدوار اتارنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اسی درمیان، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے 32 نشستوں کی اپنی پہلی فہرست جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس انتخابات میں 100 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرے گی۔