Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

28 ستمبر: ہفتے کے روز، IDF نے نصراللہ کے قتل کا اعلان کیا۔ چند گھنٹے بعد حزب اللہ نے بھی اپنے لیڈر کی موت کی تصدیق کر دی۔ نصراللہ 1992 میں 30 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ اگلے 32 سالوں میں انہوں نے حزب اللہ کو نہ صرف لبنان بلکہ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی طاقت بنا دیا۔

بنجامن نیتن یاہونے اقوام متحدہ میں حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازع کا ذمہ دارایران کوٹھہرایا۔ اس نے دو نقشے دکھائے، جن میں فلسطین شامل نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا مقصد ہے۔

حزب اللہ اوراسرائیل کے درمیان جاری جنگ کےسبب امریکہ، فرانس نے 21 دنوں کا سیزفائرکا پلان بنایا تھا۔ اس پلان کومنانے سے اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے واضح طورپرانکارکردیا ہے۔ نتین یاہوکا کہنا ہے کہ کسی بھی حالت میں اس جنگ کونہیں روکا جائے گا اورحزب اللہ پران کی طرف سے بمباری جاری رہے گی۔

فلسطینی وزیر اعظم نے کہا کہ ’’عالمی برادری کو اپنے لوگوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کو ختم کرنے کے لیے فوری ایکشن لینا چاہیے۔‘‘

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ہفتہ کے روزتقریباً 290 ٹھکانوں پرحملہ کیا، جس میں ہزاروں حزب اللہ راکٹ لانچربیرل شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران حامی احتجاج کے ٹھکانوں پرحملہ کرنا جاری رکھے گا۔

ریزولیشن کے مطابق، اسرائیل کو آئندہ 12 ماہ کے اندر فلسطین پر قبضہ کئے ہوئے حصوں سے اپنی فوج اور لوگ ہٹانے ہوں گے۔ ساتھ ہی قبضہ کی وجہ سے ہوئے نقصان کی بھرپائی کے لئے بھی اسرائیل پیسے اور ریسورس دے۔

اقوام متحدہ (یواین) میں ووٹنگ اسرائیل کے لئے ایک چیلنج پیش کرتا ہے اوربین الاقوامی برادری میں ملک کی صورتحال کو مزید کمزورکرسکتا ہے۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اس ہفتے لبنان اور شام میں اس کے ارکان کے خلاف پیجر اور واکی ٹاکی حملے "تمام سرخ لکیروں" کو عبور کر گئے ہیں اور یہ گروپ جوابی کارروائی کرے گا اور غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف اپنی لڑائی میں حزب اللہ غیرمتزلزل ہے۔

تقریباً ایک سال سے غزہ میں حماس کے خلاف جنگ لڑ رہے اسرائیل کی مشکلات کم نہیں ہورہی ہیں۔ رفح بارڈر پرواقع فیلوڈیلفی کاریڈورپرکنٹرول سے متعلق اب مصر کے ساتھ تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مصرنے بنجامن نیتن یاہوکے رفح بارڈرسے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے دعووں کی مذمت کی ہے اورعلاقے سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کے لئے ڈیڈ لائن کا مطالبہ کیا ہے۔

غزہ-اسرائیل جنگ بندی کے درمیان اسرائیل نے غزہ-مصرکاریڈور سے متعلق ایک ایسی شرط رکھ دی ہے، جس پراب سعودی عرب نے بھی اسرائیل کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل کی اس شرط کے خلاف سعودی عرب نے مصرکی مکمل حمایت کی ہے۔