Bharat Express DD Free Dish

Babar Azam

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا مقابلہ جمعرات سے لارڈز میں شروع ہوگا۔ پاکستان کے کپتان بابر اعظم انجری کی وجہ سے پہلے ٹیسٹ میں حصہ نہیں لے سکے تھے، تاہم دوسرے ٹیسٹ میں ان کی واپسی کے امکانات روشن ہیں۔

بابراعظم کو وائٹ بال کرکٹ میں پاکستان کے سب سے قابلِ اعتماد بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا تجربہ، قائدانہ صلاحیت اور کپتانی کے تقاضوں سے واقفیت وہ اہم عوامل ہیں جن کی بنیاد پر بورڈ ایک مرتبہ پھر انہیں مختصر فارمیٹ کی قیادت سونپنے پر غور کررہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں پر کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ بابر اعظم کو ایک بار پھر پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان کے سابق کرکٹر تنویراحمد کا ماننا ہے کہ اگربابراعظم کو آئی پی ایل میں کھلایا جائے تو رن بنانے کے معاملے میں وہ وراٹ کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ حالانکہ انہوں نے وراٹ کوہلی کی قابلیت کی بھی تعریف کی۔

ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی آسٹریلیائی ٹیم کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ میتھیو شارٹ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے جبکہ مارنس لبوشین 19 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ الیکس کیری 19 رنز کے انفرادی اسکور پر حارث رؤف کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

آسٹریلیا کی ٹیم 23 مئی کو پاکستان پہنچے گی۔ تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا آغاز 30 مئی سے ہوگا۔ پہلا میچ راولپنڈی میں کھیلا جائے گا، جبکہ دوسرا ون ڈے 2 جون اور تیسرا و آخری میچ 4 جون کو لاہور میں منعقد ہوگا۔

پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم نے کراچی کنگز کے خلاف 87 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر ٹی20 کرکٹ میں تیز ترین 12 ہزار رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ انہوں نے کرس گیل (343 اننگز) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ سنگِ میل حاصل کیا۔

ٹیم کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کو سونپی گئی ہے۔ ورلڈ کپ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود ٹیم مینجمنٹ نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ صاحبزادہ فرحان کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے حالیہ ٹی20 ورلڈ کپ میں دو سنچریاں اسکور کر کے شاندار کارکردگی دکھائی تھی۔

ٹورنامنٹ میں پاکستان کی بیٹنگ خاص طور پر مایوس کن رہی۔ صاحبزادہ فرحان کے علاوہ کوئی بھی بیٹر مستقل بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ٹیم سلیکشن اور بیٹنگ آرڈر بھی مسلسل تنقید کی زد میں رہا۔

جنوبی افریقی لیجنڈ فاف ڈو پلیسس نے کہا کہ بابر ٹیم میں اپنی جگہ کے حقدار ہیں، وہ اسپن ہونے والی پچوں پر اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور اسٹرائیک کو روٹیٹ کر سکتے ہیں۔ حالانکہ، حالیہ وقت میں بابر کو اسپنرز کے خلاف بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔