Bharat Express DD Free Dish

Azam Khan

یوپی میں پہلے مرحلے کے انتخابات کے لیے ایس پی کےاسٹارکمپینر کی فہرست میں 40 لیڈروں کے نام ہیں۔ جس میں جیل میں بند سماجوادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری اعظم خان کا نام ہے۔

سماج وادی پارٹی سے نکالے جانے کے بعد روچی ویرا بی ایس پی میں شامل ہوگئیں۔ سال 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی ایس پی نے بجنور سے روچی کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔ اس دوران انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ سال 2023 میں بی ایس پی نے بھی روچی کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔

دوسری طرف سابق ایم ایل اے روچی ویرا نے مرادآباد لوک سبھا سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے انہیں ٹکٹ دیا ہے اس لیے وہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے آئی ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے رامپور کے ضلع صدر نے اعظم خان کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو کہا تھا کہ یہاں کی ضلع یونٹ چاہتی تھی کہ سماجوادی پارٹی کے صدراکھلیش یادو یہاں سے لوک سبھا الیکشن لڑیں۔

جیل میں بند سابق رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے خط لکھ الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ حامی اسی خط کو دکھا کراب الیکشن سے دور جانے کی بات کرنے لگے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اعظم خان چاہتے تھے کہ رامپورسے اکھلیش یادو الیکشن لڑیں۔ وہیں مرادآباد کے رکن پارلیمنٹ ایس ٹی حسن کا ٹکٹ کٹنے کی قیاس آرائی ہے۔

اکھلیش یادو جمعہ کو سیتا پور جیل میں بند پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان سے ملنے پہنچے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ اعظم خان کو ضرور انصاف ملے گا۔ وقت تبدیل ہوتا ہے۔ وقت بہت طاقتور ہے۔ اعظم خان کو انصاف ملے گا۔

ایس پی پہلے ہی بجنور سیٹ سے سابق ایم پی یشویر سنگھ کو اپنا امیدوار بنا چکی ہے۔ لیکن، اب ان کا ٹکٹ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ شاہد منظور اس نشست سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

گزشتہ سال جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں ایس پی لیڈر اعظم خان، ان کی اہلیہ تنزین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا اور انہیں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سیشن کورٹ نے ڈونگرپور معاملے میں ان لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ گھرمیں گھس کر مارپیٹ، توڑ پھوڑ اور دھمکانے کے معاملے میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ وہیں ان پر لوٹ پاٹ اور مال ریکوری کے الزام ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

لوک سبھا الیکشن لڑنے کے سوال پر جیا پردا نے کہا کہ اگر بی جے پی مجھے ٹکٹ دیتی ہے تو میں کہیں سے بھی الیکشن لڑنے کو تیار ہوں۔ لیکن میری خواہش کے مطابق لوک سبھا کے لیے میرے نام کا اعلان کہیں سے ہو سکتا ہے۔