Bharat Express DD Free Dish

Assam

ہمنت بسوا سرما اب آسام کے پہلے ایسے غیر کانگریسی لیڈر بن گئے ہیں جنہوں نے مسلسل دو مرتبہ وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا ہے۔ ریاستی گورنر لکشمن پرساد آچاریہ نے انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ ان کے ساتھ کئی وزراء نے بھی کابینہ کے رکن کے طور پر حلف لیا، جن میں رامیشور تیلی، اتل بورا، چرن بورو اور اجنتا نیوگ شامل ہیں۔

ہمنتا بسوا سرما نے یہ اعلان بھی کیا کہ بی جے پی رہنما رنجیت داس کو آسام اسمبلی کے اسپیکر عہدے کے لیے امیدوار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت ریاست کی ترقی، خوشحالی اور مضبوطی کے لیے متحد ہو کر کام کرے گی۔

حلف برداری تقریب سے ایک دن قبل نامزد وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے پیر کے روز خاناپاڑا میدان پہنچ کر تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں این ڈی اے حکومت ریاست کی نئی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔ سرما نے بتایا کہ تقریب صبح 11 بجے منعقد ہوگی، جس میں ریاست بھر سے پارٹی کارکنان، اتحادی جماعتوں کے رہنما اور ہزاروں حامی شریک ہوں گے۔

دلیپ سیکیا کے مطابق وزیر اعظم  مودی اور امت شاہ کے علاوہ بی جے پی کے سابق قومی صدر جے پی نڈا، کئی مرکزی وزراء، این ڈی اے حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب 12 مئی کو گوہاٹی کے خاناپارا علاقے میں واقع ویٹرنری کالج میدان میں منعقد ہوگی۔ اس تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ خصوصی طور پر شرکت کریں گے، جبکہ این ڈی اے کے کئی سینئر لیڈر اور مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی موجود رہیں گے۔

ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ترقی، خواتین کی طاقت اور ”وکست آسام“ کے وژن کے حق میں دیا گیا مینڈیٹ قرار دیا۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ 126 سیٹوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔

سروے کے مطابق 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 88 سے زائد نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اسے باآسانی اکثریت کی حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کو تقریباً 31 نشستیں ملنے کی امید ہے، جبکہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو 4 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں 3 نشستیں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

اس وقت کےکیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ آسام میں 126، کےریالہ میں 140 اور پڈوچیری میں 30 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی اور نتائج 4 مئی کو اعلان کیے جائیں گے۔