Bharat Express DD Free Dish

Assam

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ 126 سیٹوں پر 722 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہو جائے گا۔

سروے کے مطابق 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 88 سے زائد نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اسے باآسانی اکثریت کی حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کو تقریباً 31 نشستیں ملنے کی امید ہے، جبکہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو 4 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں 3 نشستیں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

اس وقت کےکیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لیے صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔ آسام میں 126، کےریالہ میں 140 اور پڈوچیری میں 30 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 5 بجے تک ہوگی اور نتائج 4 مئی کو اعلان کیے جائیں گے۔

نوجوان ووٹرز بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ دکھنگاؤں ایل پی اسکول میں قائم پولنگ مرکز پر ایک نوجوان ووٹر نے کہا کہ لوگوں کو اسی پارٹی کو ووٹ دینا چاہیے جو بہتر کام کرے اور زیادہ سہولتیں فراہم کریں۔

کیرلا، آسام اورپڈوچیری میں ووٹنگ جاری ہے۔ ملک کی تینوں ریاستوں میں ووٹنگ جوش وخروش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ شام 5 بجے تک آسام میں 84.42 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ اس کے  علاوہ کیرلا میں 5 بجے تک 75.01 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ وہیں پڈوچیری میں 5 بجے تک 86.92 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔

کیرالہ کی تمام 140 اسمبلی نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ جاری ہے، جہاں 883 امیدوار میدان میں ہیں۔ ریاست میں تقریباً 2.71 کروڑ ووٹرز آج اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ حکمراں بائیں بازو کا جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) مسلسل تیسری بار اقتدار میں واپسی کی کوشش کر رہا ہے،

انتخابی جلسوں میں بی جے پی کے اسٹار کیمپینر منوج تیواری کو سننے کے لیے بڑی تعداد میں عوام موجود رہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مختلف جلسوں میں 20 سے 30 ہزار افراد نے شرکت کی، جس سے بی جے پی کارکنان میں جوش و خروش دیکھا گیا۔ عوام نے جلسوں کے دوران پارٹی کے حق میں نعرے بھی لگائے اور ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کی۔

آسام کی مقامی زبان میں اس روایتی کپڑے کو گموسا کہا جاتا ہے، جو آسامیا ثقافت میں احترام، محبت اور استقبال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ کپڑا ریاست کے مختلف علاقوں میں ہاتھ سے تیار کیا جاتا ہے اور مقامی بُنکر اسے روایتی ہتھ کرگھوں پر تیار کرتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی کی جانب سے اس کے استعمال کے بعد اس دستکاری کو نئی پہچان ملی ہے اور بُنکروں کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید بڑھ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2021 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں اس بار فوجداری مقدمات رکھنے والے امیدواروں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ 2021 میں 941 امیدواروں میں سے 138 امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات ظاہر کیے تھے، جو تقریباً 15 فیصد بنتے تھے۔ اس بار یہ شرح 14 فیصد تک محدود رہی ہے۔