Bharat Express DD Free Dish

Arvind Kejriwal

عام آدمی پارٹی  لیڈر راگھو چڈھا نے کہا کہ  ملک  کے لوگوں کی آنکھیں خوشی سے نم ہیں، ان کے بھائی، ان کے بیٹے اروند کیجریوال آج شام جیل سے باہر آنے والے ہیں

کیجریوال کو عبوری ضمانت ملنے کے بعد، سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس دیپانکردتہ کی بینچ نے کہا کہ مبینہ شراب پالیسی معاملے سے متعلق منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار اروندکیجریوال کو 2 جون خود سپردگی کرکے جیل واپس جانا ہوگا۔

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال دہلی شراب پالیسی معاملے میں گرفتارہونے کے بعد سے ہی ای ڈی کی عدالتی حراست میں ہیں۔ وہ فی الحال تہاڑ جیل میں بند ہیں۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی دلیل یہ ہے کہ اول تو انتخابی مہم چلانا آئینی حق نہیں ہے، پھر اروند کیجریوال بھی الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار زیر حراست بھی ہو تو اسے اپنی انتخابی مہم کے لیے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

ای ڈی کے ڈپٹی ڈائریکٹر بھانو پریا نے سپریم کورٹ کی جانب سے کیجریوال کی عبوری ضمانت کی درخواست پر غور کرنے سے ایک دن قبل اپنا حلف نامہ داخل کیا۔

شراب گھوٹالہ معاملے میں ای ڈی جمعہ کو وزیراعلیٰ اروند کیجریوال اور کے کویتا کے خلاف سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کرسکتی ہے۔ مرکزی ایجنسی نے کے کویتا کو 15 مارچ اور کیجریوال کو 21 مارچ کو گرفتار کیا ہے۔

کیا ہم ایمرجنسی یا مارشل لاء لگا دیں ؟ ہم پریس یا سیاسی حریفوں کو کیسے خاموش کر سکتے ہیں؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسٹر اے یا مسٹر بی کے خلاف کوئی نہیں بولے گا؟

ہوں۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی کے سی ایم کیجریوال ایکسائز پالیسی کیس میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ انہیں 21 مارچ کو پوچھ گچھ کے بعد ای ڈی نے گرفتار کیا تھا۔ دہلی کی ایک عدالت نے منگل (7 مئی) کو سی ایم کیجریوال کی عدالتی حراست میں 20 مئی تک توسیع کر دی۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران تبصرہ کیا کہ اروند کیجریوال عادتاً مجرم نہیں ہیں۔ اروندکیجریوال عوام کے ذریعہ منتخب کئے گئے مجرم ہیں۔ لوک سبھا الیکشن 6 ماہ میں ہونے والی فصل نہیں ہے۔ 5 سال میں ایک بارلوک سبھا الیکشن ہوتے ہیں۔