Bharat Express DD Free Dish

Article 370

آرٹیکل 370 معاملے پرسپریم کورٹ نے 5 ستمبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ آج فیصلہ سنایا گیا ہے۔ آئیے جموں وکشمیر کے انضمام سے متعلق آرٹیکل 370 کو منسوخ کئے جانے تک  کی کہانی آپ کو بتاتے ہیں۔

جموں و کشمیر پولیس اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا دونوں نے محبوبہ مفتی کو نظر بند کیے جانے کے دعوے کی تردید کی ہے۔ ایک بیان میں، پولیس نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو گھر میں نظر بند نہیں کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جب راجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کیا تو جموں و کشمیر کی خودمختاری ختم ہوگئی۔ اور وہ ہندوستان کے ماتحت ہو گیا۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے کپل سبل، گوپال سبرامنیم، دشینت دوے، راجیو دھون، دنیش دویدی، گوپال شنکر نارائن سمیت 18 وکلاء نے اپنے دلائل پیش کئے۔

خبر آئی ہے کہ سپریم کورٹ نے 11 دسمبر بروز سوموار کو اس پر فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے ۔ سپریم کورٹ میں فیصلے کی تاریخ 11 دسمبر رکھی گئی ہے جس پر اب مرکزی سرکار سے لیکر جموں کشمیر کی سیاسی وسماجی شخصیات کے ساتھ ہی عام عوام کی بھی نظریں ہیں اور خاص طور پر پڑوسی ملک پاکستان بھی اس کی طرف گہر نظر رکھے ہوا ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ کسی میں بھی اسے منسوخ کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ "آزادی کے بعد سے وادی میں 40,000 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ آرٹیکل 370 اس کے لئے ذمہ دار ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی اسکیمیں اب جموں و کشمیر میں لاگو کی جا رہی ہیں اور روزانہ نئے تھیٹر، کالج، ہسپتال اور نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو نظر بندی سے رہا کردیا گیا ہے۔ رہائی کے ساتھ ہی انہیں سری نگر کی تاریخی جامعہ مسجد میں نماز ادا کی۔ 

میرواعظ کو آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اس کی تقسیم سے ایک دن قبل 4 اگست 2019 کو تمام بڑے سیاستدانوں سمیت سینکڑوں دیگر افراد کے ساتھ نظر بند کر دیا گیا تھا۔

ایڈوکیٹ  نیڈومپارا نے کہا کہ وہ آئینی بنچ کے معاملات کی سماعت کرنے والی عدالت کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ان کا اعتراض عدالت میں عوامی پالیسی کے معاملات کو عوام کو سنے بغیر سننے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بات نہیں سنی جاتی۔

جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوچکی ہے ۔ قریب 16 دنوں تک مسلسل سپریم کورٹ میں اس معاملے پر سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے اس پورے معاملے کی سماعت کی ہے اور اب اس پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔