Bharat Express DD Free Dish

Andhra Pradesh

آندھرا پردیش میں دو مختلف واقعات میں دو خاندانوں کے سات افراد، جن میں پانچ کم عمر بچے بھی شامل ہیں، ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دونوں واقعات کی بنیادی وجہ گھریلو مسائل بتائی جا رہی ہے۔

اس افسوسناک واقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ میں پیش آنے والے حادثے سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے جاں بحق مزدوروں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی اور پگھلے ہوئے فولاد کے چھینٹے وسیع علاقے میں پھیل گئے۔ متاثرہ مزدور شدید جھلس گئے جن میں سے 8 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ کئی دیگر کو مختلف نوعیت کے زخم اور جھلسنے کی شکایات کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

مشرقی گوداوری ضلع میں واقع ’ریتو سیوا کیندر‘ پر آسمانی بجلی گرنے سے وہاں کسانوں کے لیے رکھے گئے خالی بوروں میں آگ لگ گئی۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیم موقع پر پہنچی اور آگ پر قابو پالیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری بیانیہ، جس میں واقعے کو “دو برادریوں کے درمیان جھڑپ” قرار دیا گیا، زمینی حقائق اور دستیاب شواہد سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتا۔ اے پی سی آر کے مطابق ریاستی کارروائی میں “منتخب قانون نافذ کرنے” اور “امتیازی استغاثہ” کے واضح آثار دیکھے گئے۔

یہ منصوبہ صرف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ آندھرا پردیش کی معیشت کو بھی مضبوط کرے گا۔ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ریاست کو عالمی ڈیجیٹل نقشے پر ایک اہم مقام حاصل ہوگا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطہ اور خیرسگالی کے پیغامات نہ صرف اتحاد کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ مشترکہ ترقیاتی اہداف کو بھی آگے بڑھاتے ہیں۔

اس موقع پر پون کلیان نے وزیر اعظم مودی کے اس ذاتی فون کال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم  مودی کی جانب سے صحت کے بارے میں تشویش اور نیک تمنائیں ان کے لیے حوصلہ افزا ہیں۔

حادثے میں دونوں گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کر دی۔ زخمیوں کو مارکاپورم کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ متعدد مسافر شدید زخمی ہیں۔

مقامی لوگوں کی مدد سے پولیس نے بس کے دروازے اور کھڑکیاں توڑ کر تمام مسافروں کو بحفاظت باہر نکالا۔ معلومات کے مطابق بس میں 36 مسافر سوار تھے اور سب محفوظ ہیں۔ معمولی فریکچر کے شکار چار مسافروں کو نندیال ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔