Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah

ٹاٹا گروپ صرف ایک کاروباری گھرانہ نہیں، بلکہ وہ اعتماد کا نام ہے جسے ہر کوئی سو فیصد خالص مانتا آیا ہے۔ مگر اسی گروپ پر کنٹرول رکھنے والے ٹاٹا ٹرسٹس کے ٹرسٹیوں کے درمیان مفادات کے تصادم نے اس ادارے کو میڈیا کی سرخیوں میں پہنچا دیا ہے۔ اختیار حاصل کرنے کی خواہش سے شروع ہوئے اس تنازع نے صرف صنعتی دنیا ہی نہیں حکومت کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ مانا یہ بھی جا رہا ہے کہ اگر معاملہ جلد نہ سلجھا تو حکومت بالواسطہ مداخلت کے ذریعہ یہاں عارضی منتظم بھی تعینات کر سکتی ہے۔

وزیر داخلہ نے اس موقع پر یہ بھی دوہرایا کہ مرکزی حکومت نکسل ازم کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔‘‘

مھجگاؤں ڈاک پر لانچ کیے جانے والے یہ جدید جہاز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، جن میں ڈیجیٹل نیویگیشن سسٹم، ٹریکنگ سہولیات اور حفاظتی نظام شامل ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز سے آپریشن کی کارکردگی بڑھے گی اور بحری ماحولیاتی نظام پر کم سے کم اثر پڑے گا۔

وزیر داخلہ اور بی جے پی کے قومی صدر سے ملاقات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال۔ گڑھ گنگا میلہ 2025 کی تیاریوں کا جائزہ۔

بھارت میری ٹائم ویک 2025 کا فوکس ’وِکست بھارت 2047‘ کے تحت میری ٹائم سیکٹر کے کردار پر ہے۔ نیلی معیشت کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے ساگرمالا پروجیکٹ، بندرگاہوں کی جدید کاری، اور گرین شپنگ جیسے اقدامات پر زور دیا ہے۔

بھارت-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو بھارت-چین جنگ کے بعد عمل میں آیا۔ اس فورس کا بنیادی مقصد بھارت اور چین کے درمیان اصل کنٹرول لائن (LAC) کی حفاظت کرنا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کے روز کھگڑیا میں منعقد ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخاب کسی ایم ایل اے، وزیر یا وزیر اعلیٰ کو بنانے کا نہیں ہے بلکہ یہ طے کرنے والا انتخاب ہے کہ بہار میں جنگل راج لانا ہے یا ترقی کا راج۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو سیوان میں ایک انتخابی ریلی کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو اور اپوزیشن اتحاد پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے لالو–رابڑی حکومت کے دور کو ”بہار کا سیاہ دور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیوان نے برسوں تک بدامنی، خوف اور قتل و غارت کا سامنا کیا۔

بھارت میں ماؤ نواز یا نکسلی تحریک، جو کبھی ”جنگ آزادی“ اور ”انقلاب“ کے نظریے پر مبنی تھی، آج اندرونی بحران، نظریاتی انتشار اور قیادت کے فقدان کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔بھوپتی اور ستیش، دونوں تنظیم کے تجربہ کار حکمت عملی اور فیلڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کرنے والے کیڈر تھے۔ ان کی خودسپردگی نے تنظیم کے نچلے سطح کےکیڈروں میں شدید تشویش اور خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی سب سے پہلے 24 اکتوبر کو سمستی پور جائیں گے، جہاں وہ کرپوری گرام میں بھارت رتن کرپوری ٹھاکر کے گھر جائیں گے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرکے انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔