Bharat Express DD Free Dish

Ajit Pawar

ممبئی کی مشہورشخصیت اور اجیت پوار گروپ کی این سی پی لیڈر بابا صدیقی اور کانگریس کا ساتھ بہت پرانا تھا، لیکن لوک سبھا الیکشن سے پہلے انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔

این سی پی اجیت پوار گروپ کے سینئر لیڈر بابا صدیقی کا گولی مارکرقتل کردیا گیا ہے۔ اس حادثہ کی اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی مذمت کی ہے۔

باندرہ ایسٹ میں بابا صدیقی پر فائرنگ کی گئی جو نرمل نگر پولیس اسٹیشن کے تحت پیش آنے والا واقعہ بتایا جاتا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ممبئی کرائم برانچ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ اس معاملے میں دو شوٹروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حملہ آوروں نے صدیقی پر چھ راؤنڈ فائر کیے جس میں تین گولیاں انہیں لگیں۔

وہیں دوسری جانب شیوسینا ادھوگروپ کی راجیہ سبھا رکن اور ترجمان پرینکا چترویدی نے کہا کہ وہ مراٹھا اور او بی سی کو آپس میں لڑا کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ اگر مہاراشٹر میں لیڈروں کا یہ حال ہے تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا؟

این سی پی (ایس) لیڈر شرد پوار نے ایک بار پھر انتخابی نشان کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ شرد پوار نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی طرف سے اجیت پوار کو جاری کردہ انتخابی نشان کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس پوسٹ میں لاپتہ لیڈیز یعنی لاپتہ خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے۔ پوسٹر میں لکھا ہے کہ مہاراشٹر سے ہر سال 64 ہزار لڑکیاں لاپتہ ہو رہی ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔

اس دوران بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے مہاراشٹر بی جے پی یونٹ کو اہم مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے اتحادیوں کے اختلافات  دور کرنے کو بھی کہا ہے۔ تاکہ انتخابات میں گرینڈ الائنس کو متحد اور مضبوط رکھا جا سکے۔

اجیت پوار کا درد ایک بار پھر سامنے آیا ہے، وہ پرانا زخم جس نے خاندان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ گڑھ چرولی میں میٹنگ میں اجیت پوار نے خاندان کو سیاست سے بالاتر قرار دیا اور اپنے وزیر کی بیٹی کو سمجھایا کہ خاندان کو توڑنے کی غلطی سماج کو پسند نہیں ہے۔

مہاراشٹرمیں اسی سال اسمبلی الیکشن ہونے ہیں۔ اس سے پہلے سیٹوں کی تقسیم سے متعلق میٹنگوں کا دورجاری ہے۔ وہیں اجیت پوارنے کہا ہے سیٹوں کی تقسیم سے متعلق وہ دوبارہ میٹنگ کریں گے، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ کون کس سیٹ سے الیکشن لڑے گا۔

اجیت پوار نے کہا کہ وہ اپنی بیوی اور بہن کو بارامتی میں آمنے سامنے الیکشن نہیں لڑانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پارلیمانی بورڈ نے کیاتھا۔ ایک بار تیر چل جائے تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔ لیکن میرا دل آج مجھے کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔