Bharat Express DD Free Dish

Air Pollution

دہلی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے ہفتہ کو قومی دارالحکومت کے اسکولوں کے لیے درج ذیل ہدایات دی ہیں۔ - جاری کردہ ہدایات کے تحت، تمام اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز میں شفٹ ہوجائیں۔ - کلاس 6 سے 9 اور کلاس 11 کے طلباء کے لئے،

اتر پردیش اور بہار کے کئی اضلاع میں شدید سردی پڑ رہی ہے، جہاں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران درجۂ حرارت مزید گر سکتا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ میں بھی سرد لہر جیسی کیفیت بنی ہوئی ہے،

آلودگی سے بچاؤ کے لیے بہترین ماسک منتخب کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اصل اہمیت کس چیز کی ہے۔ سب سے پہلی اور اہم خصوصیت فلٹر کرنے کی صلاحیت ہے۔ اچھے ماسک میں پی ایم ٹو پوائنٹ فائیو جیسے باریک ذرات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے،

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24 سے 25 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہے گا، جب کہ کم سے کم درجہ حرارت 9 سے 10 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہ سکتا ہے۔ 18 دسمبر تک موسم میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ 

حکومت نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ بھارت گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس میں نویں مقام پر ہے، لیکن ملک کی پالیسی سازی کسی بھی بیرونی رینکنگ پر منحصر نہیں ہے۔ گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس موسم کی شدت اور اس سے ہونے والے انسانی و مالی نقصان کی بنیاد پر ممالک کو رینک کرتا ہے۔

جمعرات کو دہلی کے زیادہ تر علاقوں میں فضا ’بہت خراب‘ کیٹیگری میں رہی اور متعدد مقامات پر آلودگی کا لیول تشویشناک حد تک پہنچا۔ دہلی کینٹ میں اے کیوآئی 302 ریکارڈ ہوا، جب کہ بوانا میں 334، ڈی ٹی یو میں 331،

قومی راجدھانی میں سردی کی لہر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہوا کی رفتار بہت کم ہونے سے دھند مزید گھنی ہو جائے گی۔ دن کے وقت سرد ہوائیں چلتی رہیں گی، جب کہ صبح نمی کا تناسب 100فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

آلودگی کے باعث:دمہ اور سانس کے مریضوں کو شدید دشواری، آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی، تھکن، گھبراہٹ اور سر درد کی شکایات میں اضافہ،پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر۔

دارالحکومت دہلی دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی والے شہروں کی فہرست میں سرفہرست ہے۔ایئر کوالٹی وارننگ سسٹم کے مطابق اگلے چند دنوں تک شہر کی ہوا کا معیار 'انتہائی خراب' زمرے میں رہنے کی توقع ہے

آلودہ ہوا کے اثرات بچوں سے لے کربڑوں تک سبھی کے صحت پر دکھائی دے رہے ہیں۔ آنکھوں میں جلن، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور گلے میں خراش جیسے مسائل عام ہو چکے ہیں۔