Bharat Express DD Free Dish

Air Pollution

گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔ یہ اس منصوبے کا سب سے سخت مرحلہ ہے۔ضروری سامان لے جانے والے ٹرکوں کے علاوہ دیگر ٹرکوں کی دہلی میں داخلے پر پابندی عائد ہوجاتی ہے۔اسکول اور کالج بند کیے جا سکتے ہیں اور آن لائن کلاسز شروع کی جا سکتی ہیں۔سرکاری اور نجی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔حکومت طاق اور جفت نمبر والی گاڑیوں سے متعلق اسکیم بھی نافذ کرسکتی ہے۔

سی اے کیو ایم نے شہریوں سے جی آر اے پی کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت جاری شہری رہنما خطوط پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں، نجی گاڑیوں سے سفر کم کریں اور ٹریفک جام سے بچنے کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد سے نسبتاً کم بھیڑ والے راستوں کا انتخاب کریں۔

فضائی آلودگی کے بڑھتے خطرے کے درمیان سپریم کورٹ نے 7 اور 8 نومبر کو محدود وقت کے لیے مصدقہ گرین پٹاخے جلانے کی اجازت دے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کم آلودگی کا دعویٰ کرنے والے یہ پٹاخے دہلی کی زہریلی ہوا کو مزید خراب ہونے سے روک پائیں گے؟

یہ پابندیاں ایسے وقت نافذ کی گئی ہیں، جب اتوار کو دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 261 ریکارڈ کیا گیا، جو ’خراب‘ زمرے میں آتا ہے۔دہلی کے 57 نگرانی مراکز میں سے 22 پر فضائی معیار ’انتہائی خراب‘ زمرے میں ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 21 مراکز پر یہ ’خراب‘ اور باقی 14 مراکز پر ’درمیانہ‘ زمرے میں رہا۔فضائی معیار میں یہ گراوٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے،

سردیوں میں سردی سے بچنے کے لیے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے کی وجہ سے آلودہ ذرات گھر کے اندر ہی جمع ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں گھر کو محفوظ اور آلودگی سے پاک پناہ گاہ بنانے کے لیے سائنسی اور عملی اقدامات اپنانا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔

موسم صاف رہنے کے باوجود دہلی– این سی آر کے لوگوں کو فضائی آلودگی سے راحت ملنے کی امید کم ہے۔ یکم نومبر کو دہلی– این سی آر میں ہوا کا معیار درمیانی زمرے میں رہ سکتا ہے، 2 اور 3 نومبر کو فضائی آلودگی خراب زمرے میں پہنچنے کا خدشہ ہے۔ایسی صورتحال میں سانس سے متعلق بیماریوں میں مبتلا افراد کو خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

دہلی-این سی آر میں آج آسمان پر ہلکے بادل چھائے رہنے اور دن میں دھوپ نکلنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق یکم اور 2 نومبر تک آسمان صاف ہونے اور موسم مستحکم رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔آج ہفتہ (31 اکتوبر) کو دن کے دوران 5 سے 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

سردیوں میں بڑھتی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت نے یکم نومبر سے دہلی میں باہر کے علاقوں میں رجسٹرڈ ان گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جو بی ایس-6 اخراج کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ یہ پابندی 31 جنوری 2027 تک نافذ رہے گی۔

دہلی میں سردیوں کے دوران آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کی تیاری، BS-6 سے کم معیار والی گاڑیوں کی آمدورفت پر 31 جنوری 2027 تک پابندی لگانے کی تجویز سے این سی آر کے لاکھوں ڈرائیوروں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح بھی تشویش بڑھا رہی ہے۔ 25 اکتوبر کو دستیاب نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق، کئی علاقوں میں فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 200 سے اوپر درج کیا گیا۔ وویک وہار میں اے کیو آئی 288، جہانگیر پوری میں 275 اور منڈکا میں 273 ریکارڈ کیا گیا۔بارش سے ہوا میں موجود گردوغبار کے ذرات کم ہو سکتے ہیں،