Bharat Express DD Free Dish

Afghanistan

ماہرین کے مطابق افغانستان کے ساتھ جاری تنازع میں بھارت کو گھسیٹنا پاکستان کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ داخلی بحران، معاشی مشکلات، ٹی ٹی پی کے بڑھتے خطرے اور سابق وزیر اعظم عمران خان سے متعلق سیاسی تنازع سے عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔

مولا بخش بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے اس بار حملہ کر کے بڑی غلطی کی ہے اور اس کے نتائج خود اسے بھگتنا پڑیں گے۔ افغانستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کرتا ہے، اس لیے نقصان پاکستان کو ہی ہوگا۔

پاکستان کے معروف اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے شہر بھر میں سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کی دیر رات افغانستان کی جانب سے مبینہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں، جس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی وارننگ دے دی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر بھارت کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

یو این اے ایم اے نے پاکستانی ایئر اسٹرائک کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ جائے وقوعہ پر حفاظتی اقدامات بڑھائے جائیں۔

خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جب پاکستان کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے متعدد سرحدی اضلاع پر فضائی حملے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں میں کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک ہی خاندان کے تقریباً 23 افراد ملبے تلے دب جانے کی خبر نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

افغانستان میں زلزلے کا خطرہ اس لیے بھی زیادہ رہتا ہے کیونکہ یہ ملک بھارتی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے تصادم کے علاقے میں واقع ہے۔ خاص طور پر ہندوکش کا علاقہ ایک انتہائی متحرک زلزلہ خیز زون مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑی فالٹ لائن بھی افغانستان کے بعض حصوں سے گزرتی ہے، جس میں ہرات کا علاقہ بھی شامل ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان ایک آزاد اور مستحکم ملک ہے، جس کے پاس مضبوط سکیورٹی نظام اور مؤثر قیادت موجود ہے، اور وہ اپنے پورے علاقے پر مکمل خود مختاری رکھتا ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق، گزشتہ سال دسمبر میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ طورخم بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور قلیوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ سرحدی کشیدگی کے باعث ان کی جز وقتی نوکریاں ختم ہو گئی تھیں۔

افغانستان کی خبر رساں ایجنسی خامہ پریس کے مطابق، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ راکٹ حملے کے نتیجے میں ہوا، جبکہ دیگر کے مطابق یہ پہلے سے نصب بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا۔ صحت کے حکام نے بتایا کہ کئی ہلاک اور زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔