Bharat Express DD Free Dish

Afghanistan

پاکستان کے معروف اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے شہر بھر میں سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کی دیر رات افغانستان کی جانب سے مبینہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں، جس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی وارننگ دے دی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر بھارت کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

یو این اے ایم اے نے پاکستانی ایئر اسٹرائک کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین سے بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی اس معاملے میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ جائے وقوعہ پر حفاظتی اقدامات بڑھائے جائیں۔

خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جب پاکستان کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب افغانستان کے متعدد سرحدی اضلاع پر فضائی حملے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں میں کئی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ ایک ہی خاندان کے تقریباً 23 افراد ملبے تلے دب جانے کی خبر نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

افغانستان میں زلزلے کا خطرہ اس لیے بھی زیادہ رہتا ہے کیونکہ یہ ملک بھارتی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے تصادم کے علاقے میں واقع ہے۔ خاص طور پر ہندوکش کا علاقہ ایک انتہائی متحرک زلزلہ خیز زون مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑی فالٹ لائن بھی افغانستان کے بعض حصوں سے گزرتی ہے، جس میں ہرات کا علاقہ بھی شامل ہے۔

افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان ایک آزاد اور مستحکم ملک ہے، جس کے پاس مضبوط سکیورٹی نظام اور مؤثر قیادت موجود ہے، اور وہ اپنے پورے علاقے پر مکمل خود مختاری رکھتا ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق، گزشتہ سال دسمبر میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ طورخم بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور قلیوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ سرحدی کشیدگی کے باعث ان کی جز وقتی نوکریاں ختم ہو گئی تھیں۔

افغانستان کی خبر رساں ایجنسی خامہ پریس کے مطابق، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ راکٹ حملے کے نتیجے میں ہوا، جبکہ دیگر کے مطابق یہ پہلے سے نصب بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا۔ صحت کے حکام نے بتایا کہ کئی ہلاک اور زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ انسانی شراکت دار 2026 میں ضرورت مند آبادی کے تقریباً 80 فیصد، یعنی ایک کروڑ 75 لاکھ افراد کو امداد فراہم کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اس امداد میں خوراک، رہائش، صحت کی سہولیات، غذائیت، صاف پانی، صفائی اور نقد امداد شامل ہوگی۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران 2026 میں بھی برقرار رہے گا۔ UN نے دو کروڑ سے زائد ضرورت مند افراد کے لیے 1.71 ارب ڈالر کی امدادی اسکیم پیش کی ہے، جس میں بھوک، صحت اور قدرتی آفات سے نمٹنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔