Bharat Express DD Free Dish

Afghanistan

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ انسانی شراکت دار 2026 میں ضرورت مند آبادی کے تقریباً 80 فیصد، یعنی ایک کروڑ 75 لاکھ افراد کو امداد فراہم کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اس امداد میں خوراک، رہائش، صحت کی سہولیات، غذائیت، صاف پانی، صفائی اور نقد امداد شامل ہوگی۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران 2026 میں بھی برقرار رہے گا۔ UN نے دو کروڑ سے زائد ضرورت مند افراد کے لیے 1.71 ارب ڈالر کی امدادی اسکیم پیش کی ہے، جس میں بھوک، صحت اور قدرتی آفات سے نمٹنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

کوئٹہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فائرنگ رات تقریباً 10 بجے شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔ چمن ڈسٹرکٹ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ایک خاتون سمیت تین زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

گزشتہ رات تقریباً 12 بجے، صوبہ خوست کی ضلع گربزو کے علاقے مغلګۍ میں پاکستانی جارح افواج نے ایک مقامی شہری، ولایت خان ولد قاضی میر کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 9 بچے (5 لڑکے اور 4 لڑکیاں) اور ایک خاتون شہید ہو گئی اور ان کا گھر تباہ ہو گیا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دہلی دھماکے کے حوالے سے ایک اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے بھارت اور افغانستان دونوں کو کھلی دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا، ”کل تک یہ ایک گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا اور آج وہ اسے غیر ملکی سازش قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے، لیکن ہم دو محاذوں پر لڑنے کے لیے تیار ہیں“۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں لال قلعے کے قریب ہونے والے خوفناک دھماکے پر بنگلہ دیش کی جماعت عوامی لیگ کی طلبہ شاخ بنگلہ دیش اسٹوڈنٹس لیگ نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تنظیم نے اسے پاکستان کی پشت پناہی یافتہ انتہاپسند گروپوں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے اسے "خطے کو غیر مستحکم کرنے والی کارروائی" قرار دیا۔

افغانستان کے داخلی وزیرنے کہا کہ اگر کوئی حملہ کرتا ہے تو ہم دنیا کے بادشاہوں سے لڑچکے ہیں اور اپنی زمین کی حفاظت کرنا ہمارے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی لفظی جنگ کے باوجود دونوں ملکوں نے بالآخر قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں جنگ بندی (سیز فائر) پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم، زمینی حالات میں کوئی خاص بہتری تاحال دکھائی نہیں دے رہی۔

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان، ایک بار پھر شدید کشیدگی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ خطہ دہائیوں سے سیاسی استحصال، فوجی آپریشنوں اور غیرملکی مفادات کی جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج بھی بلوچ عوام خود کو ایک آزاد قوم سمجھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ زبردستی کیے گئے الحاق کو قبول نہیں کرتے۔

شفیع برفت نے نیٹو قیادت، اقوام متحدہ اور اتحادی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے عمل کی حمایت کرکے اپنے اخلاقی اور سیاسی فرائض کو پورا کریں۔