Bharat Express DD Free Dish

Adani

رپورٹ کے مطابق FY26 میں کیے گئے سرمایہ جاتی اخراجات کا حجم اتنا بڑا ہے جتنا گروپ نے اپنے ابتدائی 25 برسوں کے دوران مجموعی اثاثے تعمیر کرنے میں خرچ کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف بھارت میں موجود بنیادی ڈھانچے کے وسیع مواقع کی عکاس ہے بلکہ اڈانی گروپ کے طویل مدتی ترقیاتی وژن پر اس کے اعتماد کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون کی جانب سے تیار اور چلائے جانے والے وِزنجم انٹرنیشنل سی پورٹ نے آپریشنز شروع ہونے کے صرف 18 ماہ کے اندر دو ملین ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹس (TEUs) ہینڈل کرنے کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، اور یہ کارنامہ انجام دینے والا بھارت کا تیز ترین بندرگاہ بن گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس خصوصی ریفر ٹرین کے ذریعے منجمد غذائی اشیا کو مخصوص درجہ حرارت میں بروقت منزل تک پہنچایا جائے گا، جس سے مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ اندرونی علاقوں سے بندرگاہوں تک بہتر رابطہ بھی قائم ہوگا۔یہ ٹرین بھارت سے مختلف بین الاقوامی منڈیوں جیسے ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور انڈونیشیا تک سامان پہنچائے گی۔

اڈانی پورٹس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اندرونی علاقوں میں لاجسٹکس آپریشنز کو مضبوط بنانے اور پورے شمالی بھارت میں اپنی خدمات کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ یہ حصول اس کے طویل مدتی منصوبے کو بھی تقویت دے گا،

ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔

س منصوبے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ ریزولوشن اپلیکنٹ ہے، جبکہ اڈانی پاور ان معاہدوں کو نافذ کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے۔اڈانی پاور پہلے ہی جے پرکاش گروپ کے ریزولوشن عمل میں دلچسپی ظاہر کر چکی تھی اور اب تازہ معاہدوں کے ذریعے اس حصولی عمل کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے

بھارت اس وقت تیزی سے پمپڈ اسٹوریج صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور آندھرا پردیش اس شعبے میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اڈانی گروپ بھی اپنی قابل تجدید توانائی حکمت عملی کے تحت آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں ایسے کئی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے۔

بھٹوریا کے مطابق ان قانونی معاملات کے خاتمے سے ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور اس سے عالمی بازار میں سرگرم ہندوستانی کمپنیوں کے بارے میں اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے امریکہ میں اڈانی گروپ کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو امریکی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا۔

دوسری جانب گھریلو شیئر بازار میں بھی مثبت ماحول دیکھنے کو ملا۔ سینسیکس اور نفٹی میں صبح کے کاروبار کے دوران تقریباً 0.5 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا۔ مختلف شعبوں میں خریداری کے رجحان نے بازار کو سہارا دیا۔ بازار کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی قانونی کارروائی ختم ہونے سے اڈانی گروپ کے شیئرز پر موجود ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

ڈاکٹر آہوجا کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے ایران سے متعلق پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے ساتھ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے تصفیے کا اعلان کیا ہے۔