Bharat Express DD Free Dish

Adani

اڈانی گروپ کے زیر انتظام نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (این ایم آئی اے ایل) نے اعلان کیا ہے کہ ہوائی اڈے کے کمرشل آپریشنز کے آغاز کے ساتھ ہی مسافروں کو مفت تیز رفتار وائی فائی اور ڈیجیٹل فرسٹ مسافر مواصلاتی نظام کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

گجرات میں عدالت نے کانگریس کو ہدایت دی ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی–اڈانی کے ڈیپ فیک ویڈیو کو 48 گھنٹوں میں ہٹا دے۔ ویڈیو کو ہتکِ عزت قرار دیا گیا اور یہ کارروائی اڈانی کی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔

اڈانی یونیورسٹی کا دوسرا کانووکیشن یعنی جلسۂ تقسیمِ اسناد تقریب 6 دسمبر کو ہوگی۔ ڈاکٹر پریتی اڈانی طلباء سے خطاب کریں گی۔ لائیو اسٹریم صبح 10:45 بجے سے دیکھی جا سکے گی۔

دھیگی پورٹ مہاراشٹر کے صنعتی علاقوں کے لیے گیٹ وے کے طور پر کام کرتا ہے اور یہاں بند گودام، ٹینک فارم اور اوپن اسٹاک یارڈز جیسی سہولیات موجود ہیں۔ فی الحال APSEZ کی کارگو ہینڈلنگ کی صلاحیت 633 ملین ٹن سالانہ ہے،

نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (این ایم آئی اے) 25 دسمبر یعنی کرسمس ڈے سے باضابطہ طور پر کمرشل آپریشن شروع کرنے جا رہا ہے، جس کے پہلے ہی دن 23 طیارے مختلف مقامات کے لیے اڑان بھریں گے۔ یہ اطلاع منگل کے روز ایئرپورٹ انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

1,160 ہیکٹر رقبے پر پھیلا نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ ملک کے سب سے جدید ایئرپورٹس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایک رن وے اور ایک ٹرمینل بنایا گیا ہے، جو سالانہ تقریباً 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اڈانی گروپ کی مرکزی کمپنی اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ (اے ای ایل) کو انسٹی ٹیوٹ آف ڈائریکٹرز (آئی او ڈی)  بھارت کی جانب سے ماحولیات، سماجی اور گورننس (ای ایس جی ) میں بہترین کارکردگی کے لیے معزز گولڈن پیکاک ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔

اڈانی گروپ کی توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گروپ کی دو کمپنیوں اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور اڈانی پاور نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ انہیں حکومتِ آسام کی جانب سے کل 63 ہزار کروڑ روپے مالیت کے دو وسیع توانائی منصوبوں کے لیے لیٹر آف ایوارڈ جاری کر دیے گئے ہیں۔

اڈانی سیمنٹ FY26 سے TNFD سے منسلک سفارشات کو باضابطہ طور پر اپنائے گا، جس سے ماحولیاتی کارکردگی میں اپنی شفافیت اور جوابدہی میں اضافہ ہوگا۔

کمپنی کے مطابق، یہ وسیع اسٹوریج سہولت گرڈ (Grid) کے استحکام میں اضافہ کرے گی اور قابلِ تجدید توانائی کی چوبیس گھنٹے دستیابی کو یقینی بنائے گی، جس سے بھارت اپنے ’’نیٹ زیرو‘‘ اہداف کے قریب پہنچ سکے گا۔