Bharat Express DD Free Dish

Adani

اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے اڈانی اے جی ایم 2026 کے دوران مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا سینٹرز، توانائی، ہوائی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گروپ نے مالی سال 2025-26 کے دوران 1.5 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں 45 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ایئرپورٹ پر تعمیر کی گئی 1,900 میٹر طویل نئی رن وے پر طیارے کی محفوظ لینڈنگ کے بعد تجارتی پروازوں کے آغاز کو باضابطہ منظوری مل گئی۔ حکام کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف ایئرپورٹ کی ترقی کے لیے اہم ہے بلکہ گجرات کے صنعتی اور تجارتی شعبے کو بھی نئی رفتار فراہم کرے گی

اڈانی فاؤنڈیشن  نے پدری واقع اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر میں پہلے بیچ کا آغاز کیا ہے، تین ماہ کی تربیت سے دیہی نوجوانوں کو روزگار سے جڑی مہارتیں حاصل ہوں گی۔

اڈانی انرجی سلوشنز کے سی ای او کندرپ پٹیل نے کہا کہ انٹیلی اسمارٹ کا حصول کمپنی کی صلاحیتوں اور آپریشنل دائرہ کار کو مزید مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ ٹیکنالوجی پر مبنی حل کے ذریعے بھارت کے بجلی تقسیم کے نظام کو جدید بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

فوربز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران گوتم اڈانی کی دولت میں تقریباً 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا ،جب امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے اڈانی گروپ کے خلاف عائد کیے گئے مبینہ دھوکہ دہی کے الزامات کو مسترد کر دیا گیا۔

پرگنانندا کی یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ چھٹے راؤنڈ تک وہ پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نچلی پوزیشن پر موجود تھے۔قابل ذکر بات یہ ہےکہ  اس کے بعد انہوں نے زبردست واپسی کرتے ہوئے مسلسل چار کلاسیکل مقابلے جیت لیے اور سب کو حیران کر دیا۔

اڈانی فاؤنڈیشن اور انوشکا فاؤنڈیشن نے پانچ ریاستوں میں 10 ہزار سے زائد بچوں کو کلب فٹ کے علاج تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے شراکت داری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق FY26 میں کیے گئے سرمایہ جاتی اخراجات کا حجم اتنا بڑا ہے جتنا گروپ نے اپنے ابتدائی 25 برسوں کے دوران مجموعی اثاثے تعمیر کرنے میں خرچ کیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف بھارت میں موجود بنیادی ڈھانچے کے وسیع مواقع کی عکاس ہے بلکہ اڈانی گروپ کے طویل مدتی ترقیاتی وژن پر اس کے اعتماد کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون کی جانب سے تیار اور چلائے جانے والے وِزنجم انٹرنیشنل سی پورٹ نے آپریشنز شروع ہونے کے صرف 18 ماہ کے اندر دو ملین ٹوئنٹی فٹ ایکویولنٹ یونٹس (TEUs) ہینڈل کرنے کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے، اور یہ کارنامہ انجام دینے والا بھارت کا تیز ترین بندرگاہ بن گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس خصوصی ریفر ٹرین کے ذریعے منجمد غذائی اشیا کو مخصوص درجہ حرارت میں بروقت منزل تک پہنچایا جائے گا، جس سے مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ اندرونی علاقوں سے بندرگاہوں تک بہتر رابطہ بھی قائم ہوگا۔یہ ٹرین بھارت سے مختلف بین الاقوامی منڈیوں جیسے ملائیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور انڈونیشیا تک سامان پہنچائے گی۔