Bharat Express DD Free Dish

Adani

کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں 50 لاکھ اراکین کا ہندسہ عبور کرنا ’’اڈانی ریوارڈز‘‘ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل قریب میں نئے فیچرز شامل کیے جائیں گے، ممبران کے فوائد میں اضافہ کیا جائے گا اور اے اے ایچ ایل کے زیر انتظام تمام ہوائی اڈوں پر یوزر کو مزید بہتر تجربہ فراہم کرنے کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

طالب علم شیو منڈلک نے بھی پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ RSI-India ملک بھر کے ہونہار ہائی اسکول طلبہ کو مکمل طور پر فنڈڈ اور عالمی معیار کی تحقیقی تربیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع کے لیے اڈانی گروپ اور CEE-USA کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام باصلاحیت طلبہ کے لیے معاشی رکاوٹوں کے بغیر اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے دروازے کھولتے ہیں۔

اڈانی گروپ کے اشتراک سے مجوزہ مربوط ایلومینیم ویلیو چین منصوبہ اوڈیشہ میں اب تک کی سب سے بڑی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) ثابت ہونے کی توقع ہے، جس سے کان کنی، ریفائننگ، اسمیلٹنگ اور ڈاؤن اسٹریم مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً 53,500 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ (AGEL) بھارت کی پہلی قابلِ تجدید توانائی کمپنی بن گئی ہے جس نے آپریشنل (فعال) صلاحیت کے لحاظ سے 20 گیگاواٹ کا تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

یہ معاہدہ ریگولیٹری منظوریوں اور دیگر روایتی شرائط کی تکمیل سے مشروط ہے۔ اس کے تحت TiL تقریباً 1.397 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جو بندرگاہ کی مجموعی 2.85 ارب امریکی ڈالر مالیت کے حساب سے 49 فیصد حصص کے برابر ہے۔

جیانفورٹی نے واضح کیا کہ جج استغاثہ (Prosecution) کے فیصلے پر دوبارہ غور نہیں کر سکتے اور نہ ہی محکمہ انصاف کے فیصلے کی جگہ اپنا فیصلہ نافذ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت صرف یہ اطمینان کرتی ہے کہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست نیک نیتی کے ساتھ دی گئی ہے اور اس میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔

اڈانی کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ فردِ جرم میں کسی سرمایہ کار کو مالی نقصان پہنچنے کا الزام شامل نہیں۔ 2021 کے بانڈز کی مکمل ادائیگی ہو چکی ہے، 2024 کے بانڈز میں کوئی ڈیفالٹ نہیں ہوا، جبکہ 2021 اور 2023 کے قرضے بھی مقررہ شرائط کے مطابق ادا کیے جا رہے ہیں۔

اس پروگرام میں لارڈ اڈائر ٹرنر اور نائیجل ٹاپنگ کی صدارت میں مختلف نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں توانائی، مالیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی عالمی تنظیموں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔تقریب کا اختتام سائنس میوزیم میں قائم 'انرجی ریولوشن: دی اڈانی گرین انرجی گیلری' کے دورے پر ہوا، جہاں مارچ 2024 میں افتتاح کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد آ چکے ہیں۔

ڈانی پورٹس کے کل وقتی ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) اشونی گپتا نے اس کامیابی کو کمپنی کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خودمختار ریٹنگ کے مساوی درجہ حاصل کرنا کمپنی کے مضبوط کاروباری ماڈل، قابل اعتماد کیش فلو، معیاری انفراسٹرکچر اثاثوں اور مالیاتی نظم و ضبط کا واضح ثبوت ہے۔

گوتَم اڈانی نے کہا:"اگر میں یہ کر سکتا ہوں تو ہر بھارتی کر سکتا ہے۔ انہیں صرف ایک موقع اور ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔"ملک کی تمام ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، 800 سے زائد اضلاع اور دنیا بھر میں موجود بھارتی برادری تک رسائی کے ساتھ وندے بھارتم کو بھارت میں اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کی تلاش کا ایک وسیع ترین پلیٹ فارم بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام کے لیے درخواستیں 24 جون سے شروع ہو چکی ہیں۔