Adani Ports To Acquire Jaypee Fertilisers For Rs 1,500 Crore: اڈانی پورٹس 1500 کروڑ روپے میں جے پی فرٹیلائزرز کو خریدے گی، لاجسٹکس نیٹ ورک کو ملے گی نئی طاقت
اڈانی پورٹس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ملک کے اندرونی علاقوں میں لاجسٹکس آپریشنز کو مضبوط بنانے اور پورے شمالی بھارت میں اپنی خدمات کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔کمپنی نے کہا کہ یہ حصول اس کے طویل مدتی منصوبے کو بھی تقویت دے گا،
Adani’s US Legal Resolution Could Boost India’s Nuclear Energy Plans: امریکہ میں قانونی معاملہ حل ہونے سے اڈانی گروپ کو بھارت کے نیوکلیئر پروگرام میں مل سکتی ہے بڑی تقویت: ہولٹیک سی ای او
ڈاکٹر کرس سنگھ نے بھارت کی طویل مدتی توانائی ضروریات اور صنعتی توسیع کے لیے نیوکلیئر انرجی کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف قابل تجدید توانائی کے ذرائع، جیسے شمسی اور ہوائی توانائی، ملک کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔
Adani Power To Acquire JP Power Stake: اڈانی پاور کا جے پرکاش پاور میں بڑا سرمایہ کاری معاہدہ، 4194 کروڑ روپے میں حصص اور تھرمل پلانٹ خریدنے کا اعلان
س منصوبے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ ریزولوشن اپلیکنٹ ہے، جبکہ اڈانی پاور ان معاہدوں کو نافذ کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے۔اڈانی پاور پہلے ہی جے پرکاش گروپ کے ریزولوشن عمل میں دلچسپی ظاہر کر چکی تھی اور اب تازہ معاہدوں کے ذریعے اس حصولی عمل کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے
Adani Hydro Energy Eleven Ltd: آندھرا پردیش میں اڈانی گروپ کا بڑا گرین انرجی پروجیکٹ منظور، 2250 میگاواٹ پمپڈ اسٹوریج منصوبہ قائم ہوگا
بھارت اس وقت تیزی سے پمپڈ اسٹوریج صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور آندھرا پردیش اس شعبے میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اڈانی گروپ بھی اپنی قابل تجدید توانائی حکمت عملی کے تحت آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں ایسے کئی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے۔
Ajay Bhutoria, hailed the Adani Group’s total legal clearance: گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات کا خاتمہ بڑی قانونی کامیابی: اجے بھٹوریا
بھٹوریا کے مطابق ان قانونی معاملات کے خاتمے سے ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور اس سے عالمی بازار میں سرگرم ہندوستانی کمپنیوں کے بارے میں اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے امریکہ میں اڈانی گروپ کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو امریکی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا۔
Adani Stocks Rally After US Charges Dropped: گوتم اڈانی کے خلاف امریکی الزامات ختم، اڈانی گروپ کے شیئرز میں زبردست تیزی
دوسری جانب گھریلو شیئر بازار میں بھی مثبت ماحول دیکھنے کو ملا۔ سینسیکس اور نفٹی میں صبح کے کاروبار کے دوران تقریباً 0.5 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا۔ مختلف شعبوں میں خریداری کے رجحان نے بازار کو سہارا دیا۔ بازار کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی قانونی کارروائی ختم ہونے سے اڈانی گروپ کے شیئرز پر موجود ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔
USISPF Welcomes Settlement of Adani Cases: اڈانی معاملے کے تصفیے سے ہند-امریکہ اقتصادی تعلقات کو تقویت ملے گی: یو ایس آئی ایس پی ایف
ڈاکٹر آہوجا کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) نے ایران سے متعلق پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں کے معاملے میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ کے ساتھ 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے تصفیے کا اعلان کیا ہے۔
ADANI Group Bets Big On Bihar: بہار میں 60 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کریں گے گوتم اڈانی، سستی بجلی، سڑک، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ملے گی نئی رفتار
معروف صنعت کار گوتم اڈانی نے بہار کی ترقی کے لیے تقریباً 50 سے 60 ہزار کروڑ روپے کی بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اڈانی گروپ ریاست میں سڑک، بجلی، تعلیم، صحت، ملٹی ماڈل لاجسٹک ہب، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔
Adani Centre for Eye Diseases: گوتم اڈانی کا بہار کو بڑا طبی تحفہ، مستی چک میں 700 کروڑ روپے کے آئی کیئر پروجیکٹ کا سنگ بنیاد
اڈانی گروپ اور اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل کی مشترکہ کوشش سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں جدید اور کم خرچ آنکھوں کے علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا مقصد شمالی اور وسطی بھارت کے دور دراز علاقوں تک عالمی معیار کی آئی کیئر خدمات پہنچانا ہے۔
Billionaire Gautam Adani News: امریکہ میں گوتم اڈانی کے خلاف مقدمہ اس ہفتے ختم ہونے کا امکان، قانونی تنازعہ اختتام کے قریب: رپورٹ
رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اس معاملے پر مختلف قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسی ہفتے اس حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف عائد الزامات واپس لینے سے متعلق عمل مکمل کرنے کے قریب ہے، جبکہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن بھی اس معاملے کو نمٹانے کے لیے مختلف امکانات پر غور کر رہا ہے۔





