Bharat Express DD Free Dish

اسپورٹس

کولکتہ نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لکھنؤ نے ابتدائی شراکت میں 10.2 اوور میں 99 رنز جوڑے۔ لکھنؤ کے دونوں اوپنرز مارش اور ایڈن مارکرم نے گیند بازوں کو زبردست انداز میں مارا۔ مارکرم 28 گیندوں میں چار چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 47 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

کولکاتہ نائٹ رائڈرس نے 13ویں، 14ویں، 15ویں، 16ویں اور 17ویں اوور میں مسلسل 5 وکٹیں گنوا دیں۔ حالانکہ رنکو سنگھ نے کچھ شاندار اور بڑے شاٹس لگا کر ٹیم کو جیت دلانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔

جوس بٹلر، جنہوں نے طویل عرصے تک انگلینڈ کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی کی، اب اس کردار سے دستبردار ہو رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں انگلینڈ نے کئی یادگار فتوحات حاصل کیں، جن میں 2022 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی شامل ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنی ’پڑوسی پہلے‘ پالیسی کو دہرایا اور میانمار میں حالیہ زلزلے کے بعد ہندوستان کی مدد کو مثال کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میانمار میں زلزلے کے بعد ہم سب سے پہلے مدد بھیجی تھی۔ اسی طرح سری لنکا کے بحران کے دوران ہندوستان نے اپنی طرف سے ہر ممکن مدد کی تھی۔‘‘

پاکستانی کھلاڑیوں کے آئی پی ایل میں نہ کھیلنے کے حوالے سے راشد لطیف نے کہا کہ ظاہر ہے کہ ہمیں بھی اس کی کمی محسوس ہوتی ہے (آئی پی ایل میں کھیلنا)، اگر ہم بھی کھیلتے تو دلچسپی اور کاروبار میں اضافہ ہوتا، اگر ہمارے کھلاڑی کھیل رہے ہوتے تو کوئی نہ کوئی براڈ کاسٹر یہاں ضرور دکھاتا۔

گزشتہ برسوں کے دوران، کوہلی اور روہت نے ہندوستان کے لیے کئی میچ جیتے ہیں اور 2013 اور 2025 کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیم میں ایک ساتھ تھے، اس کے علاوہ 2024 کا مردوں کا T20 ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ایک ہی وقت میں اپنے T20 کیریئر کا خاتمہ کیا۔

چیپک اسٹیڈیم میں مہندر سنگھ دھونی کے والد اور والدہ کے میچ دیکھنے پہنچنے کے بعد ریٹائرمنٹ کی قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں۔ فلیمنگ نے اس معاملے میں کسی بھی طرح کی معلومات سے انکار کیا ہے۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پوسٹ میں 1996 کی عالمی کپ چمپئن سری لنکائی کھلاڑیوں کی تعریف کی اور کروڑوں کھیل شائقین کے لیے اس ٹیم کو مثال بتایا۔ جئے سوریہ نے بھی ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔

نئے کپتان شریئس ایئر اور نئے کوچ رکی پونٹنگ کی قیادت میں پنجاب کنگز نے سیزن کے شروعاتی دونوں میچ یکطرفہ انداز میں جیت لیے تھے، لیکن آج راجستھان نے اسے پنجاب کی زمین پر ہی 50 رنوں سے شکست فاش دے دی۔

دہلی نے 20 اوورس میں 183 رن بنائے تھے اور جواب میں چنئی کی ٹیم 5 وکٹ کے نقصان پر 158 رن ہی بنا سکی۔ دھونی 26 گیندوں پر 30 رن بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، لیکن اپنی ٹیم کو جیت نہیں دلا سکے۔