برطانیہ دورے پرہندوستانی کرکٹ ٹیم 10 میچوں میں صرف ایک جیت درج کرپائی۔ یہ واحد جیت پہلے ونڈے میچ میں ملی۔ جب تیسرے ونڈے میچ کی باری آئی تو ہندوستانی گیند بازوں نے انگلینڈ سے لارڈس پرونڈے کا سب سے بڑا اسکوربنوا دیا۔ 388 رنوں کے ہدف کے جواب میں ہندوستانی ٹیم 360 رن بناسکی۔ اس خراب کارکردگی کے بعد عظیم کرکٹر سنجے مانجریکرنے ٹیم منیجمنٹ کی حکمت عملی پرسیدھا نشانہ سادھا ہے۔
سنجے مانجریکرنے کہا کہ جسپریت بمراہ کے بغیرہندوستانی گیند بازی کافی کمزورہوجاتی ہے، اس لئے محمد شمی اورمحمد سراج جیسے سینئرگیند بازوں کوڈراپ کرنے سے ٹیم انڈیا کی گیند بازی کی پول کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’2027 ورلڈ کپ کے لئے ٹیم بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ میچ ونرکھلاڑیوں کونظراندازکرتے رہیں۔ جسپریت بمراہ کے بغیراس گیند بازی اٹیک میں دم دکھائی نہیں دیتا۔ محمد شمی اورمحمد سراج جیسے سینئرگیند بازوں کو نظراندازکرنے سے ہندوستانی گیند بازی کی کمیاں اجاگرہوگئی ہیں۔‘‘
سنجے مانجریکرنے منیجمنٹ پراٹھایا سوال
سنجے مانجریکرنے محمد شمی-محمد سراج کی حمایت میں آکرکہا کہ محمد سراج نے انگلینڈ کی پچوں پرانگلینڈ کی بلے بازی کوتباہ وبرباد کردیا تھا۔ دوسری طرف محمد شمی ڈومیسٹک (گھریلو) کرکٹ میں مسلسل اپنی قابلیت ثابت کرتے رہے ہیں۔ سابق کرکٹرنے منیجمنٹ پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بیک اپ گیند بازوں کی پٹائی ہورہی ہو، تونوجوان گیند بازوں کوموقع دینے کے بہانے سینئرکھلاڑیوں کو باہرکرنا سمجھداری نہیں ہے۔
محمد شمی اورمحمد سراج کو نہیں مل رہا ہے موقع
ایک طرف محمد شمی ہیں، جوچمپئنزٹرافی 2025 کے بعد ہندوستانی ٹیم کے لئے کوئی بھی میچ نہیں کھیلے ہیں۔ وہیں محمد سراج کوآخری بارافغانستان کے خلاف ٹسٹ میں کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا، لیکن ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 میں یوایس اے کے خلاف میچ کے بعد وہ بھی ٹیم انڈیا کے لئے وائٹ بال (سفید گیند) کرکٹ کھیلتے نہیں نظرآئے ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیم انڈیا کو2-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ٹیم انڈیا کے لئے بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


